تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 333
نہیں ہیں۔بلکہ اس کے معنے مال کے خرچ ہونے کے ہیں۔اورآیت کے یہ معنے ہیں کہ ا س ڈرسے نہ ماروکہ روپیہ خرچ ہوگا۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ا س ڈر سے کہ روپیہ خرچ نہ ہو کوئی اولاد کو قتل کرتابھی ہے ؟سوجہاںتک دنیا کا تجربہ ہے اس قسم کے واقعات صحیح الدما غ لوگوں میں توملتے نہیں۔بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جن کے پاس روپیہ نہیں ہوتا وہ بھی اولا دکو نہیں مارتے۔پس معلوم ہواکہ ا س قتل کاکوئی اورمفہوم ہے۔اورہمیں انسانوں میں اس جرم کی تلاش کرنی چاہیے۔سوجب ہم مختلف انسانوں کی حالتوں کو دیکھتے ہیں توہمیں معلو م ہوتا ہے کہ بعض لوگ بخل کی وجہ سے اولاد کی صحیح تربیت نہیں کرتے۔پوری غذا نہیں دیتے یاایسی غذانہیں دیتے جو نشوونما کے لئے ضروری ہو ایسے بخیل توبے شک فاترالعقلو ں میں ہی ملتے ہیں جوزہر سے یاگلا گھونٹ کراپنی اولاد کو اس خوف سے مارتے ہوں کہ ان پرہمار ی دولت خرچ ہوگی۔مگرایسے بخیل عام صحیح الدماغ لوگوں میں کثرت سے ملتے ہیں کہ پاس روپیہ ہے لیکن بچوں کو بخل کی و جہ سے اچھی غذا نہیں دیتے۔لباس مناسب نہیں دیتے حتیٰ کہ بعض دفعہ وہ خوراک کی کمی کی وجہ سے بیمار ہوجاتے ہیں۔بعض دفعہ لباس کی کمی کی وجہ سے نمونیہ وغیر ہ کاشکار ہوجاتے ہیں۔اس قسم کے لوگ دنیا میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ملتے ہیں اورہرملک میں ملتے ہیں۔اسی طرح قتل سے مراد اخلاقی اور روحانی قتل بھی ہوسکتا ہے کہ روپیہ کے خرچ کے ڈرسے اچھی تعلیم نہیں دلاتے اورگویا بچہ کی اخلاقی یاروحانی موت کاموجب ہوجاتے ہیں۔ا س آیت میں اللہ تعالیٰ مومنوں کو نصیحت کرتاہے کہ اس فعل سے اجتناب کریںا ورو ہ اخراجات جو بچوں کی صحت اوراخلاق کی درستی کے لئے ضروری ہیں۔ان سے کبھی دریغ نہ کیا کریں۔اورقتل کالفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ اولاد کو قتل کرنے سے انسان فطرتاً تنفر کرتا ہے پس اس لفظ کے استعمال سے اس کی توجہ اس طرف پھیرائی ہے۔کہ تم کسی صورت میں بھی اولاد کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنے پر تیار نہیں ہوتے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ایک اور قسم کے قتل کے تم مرتکب ہورہے ہو۔یعنی اولادکی خوراک اورلباس کاخیال نہیں رکھتے اوران کی صحتوں کو برباد کردیتے ہو۔یاان کی تربیت کاخیال نہیں رکھتے اوران کے اخلاق کو برباد کردیتے ہو۔لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ میں قتل کے لفظ کے استعمال کی وجہ قتل کالفظ استعمال کرنے کی میرے نزدیک یہ بھی وجہ ہے کہ اگر صرف یوں کہاجاتا کہ اولاد پر ضرو رخرچ کیا کرو۔توان الفاظ میں ان بالواسطہ اثرات کی طرف اشارہ نہ ہوتا جو اولاد کی زندگی پر پڑتے ہیں۔لیکن ان الفاظ کے استعمال نے تمام بالواسطہ تاثیرات کوبھی اپنے اندر شامل کرلیا ہے۔مثلاً بیوی کی خوراک اورمناسب لباس کاخیال نہ رکھنا۔یادودھ پلانے یاایام حمل میں اس پر کام