تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 332
قرآن کریم کی کیا ہی معجزانہ شان ہے کہ ابھی مسلمان مکہ میں تکلیف اٹھارہے تھے کہ اس نے مسلمانوں کے لئے وہ احکام بیان کرنے شروع کردئے جو ان کے لئے ترقی کے زمانہ میں ضروری تھے۔کیااس کے سواجواپنی بات کے پوراکرنے پر کامل طورپر قادر ہو کوئی دوسرااس طریق کو اختیار کرسکتا ہے۔اگر یہ کلام انسان کاہوتا تو مکہ میں اوران حالات میں جن میں سے مسلمان گذر رہے تھے۔یہ الفاظ نکالتے وقت اس کاحلق خشک ہوجاتا اورالفاظ حلق میں ہی اٹک کر رہ جاتے۔وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اور تم مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کوقتل مت کرو۔انہیں (بھی)ہم ہی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی (ہم ہی دیتے اِيَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا۰۰۳۲ ہیں)انہیں قتل کرنا یقیناً(بہت) بڑی خطاہے۔حلّ لُغَات۔اِمْلَاقٌ : اِمْلَاقٌ اَمْلَقَسے مصدر ہے اوراَمْلَقَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں اَنْفَقَ مَالَہٗ حَتّٰی اِفْتَقَرَ۔اتنا مال خرچ کیا کہ پھر محتاج و مفلس ہوگیا (اقرب)پس اِمْلَاقٍ کے معنے ہوں گے مال ضائع ہوکر محتاج و مفلس ہوجا نا۔اَلْخِطْأَ۔اَلذَّنْبُ۔قصور۔مَاتَعَمَّدَ مِنْہُ۔جان بوجھ کر کی ہوئی غلطی (اقرب) تفسیر۔پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاتھا کہ احسان تولوگوں پر کرو لیکن یہ خیال رکھ لو کہ تمہارااحسان کرنااس رنگ پر نہ ہو کہ اس کے نتیجہ میں لوگ بدیوں میں بڑھ جائیں یاتم خود بدی میں پڑ جائو۔آیت لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ الخ کا مطلب اب فرماتا ہے کہ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ یعنی اس خوف سے کہ اولادپر روپیہ خرچ ہوگاان کو ہلا ک نہ کرو یہ حکم لڑکیوں کے قتل کرنے کے متعلق نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم میں لڑکیوں کے قتل کی کسی جگہ بھی یہ وجہ بیان نہیں فرمائی کہ لوگ خرچ کے ڈر سے ان کو قتل کردیتے ہیں۔بلکہ یہ وجہ بتائی ہے کہ ان کی پیدائش کو اپنے لئے ذلت کاموجب سمجھتے ہیں اس لئے ان کو مار ڈالتے ہیں اسی طرح اس آیت کے یہ معنے بھی نہیں ہوسکتے ہیں کہ بوجہ غربت اورتنگی کے اولا دکو قتل نہ کرو۔کیونکہ املاق کے معنی غربت اورتنگی کے