تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 329

اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ۠ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّيْطٰنُ اسراف کرنے والے لوگ یقیناً شیطانوں کے بھا ئی ہوتے ہیںاور شیطان لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا۰۰۲۸ اپنے رب کا بہت ہی ناشکر گذار ہے۔تفسیر۔فرمایاکہ اگر تم ایساکروگے توناشکری ہوگی۔ہم نے تمہیں یہ مال اسی لئے دیاہے کہ تم اس کو برمحل خرچ کرو اب جو تم اس کو یوں پھینکو گے توا س کے یہ معنے ہوں گے کہ مال کے ساتھ جوذمہ واریاں اللہ تعالیٰ عائد فرماتا ہے ان سے بچناچاہتے ہو اوریہ ایک گنا ہ ہے۔رہبانیت کا ردّ اس آیت میں کس لطیف طریق سے رہبانیت وغیر ہ کارد کیا ہے۔رہبانیت کیا ہے ذمہ واریوں سے بچنے کاایک ذریعہ ہے اوریہ فعل نیکی نہیں کہلا سکتا بلکہ ایک کھلی بدی ہے اورشیطانی فعل ہے۔اللہ تعالیٰ کے احسان کی ناقد ری ہے۔وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا اوراگر تواپنے رب کی طرف سے کسی رحمت کی جستجومیں جس کی توامید رکھتا ہوان سے اعراض کرے تو(پھر بھی فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًا۰۰۲۹ انہیں سختی سے رد نہ کر بلکہ)انہیں کوئی نرم بات کہہ دو۔حلّ لُغَات۔مَیْسُوْرًا مَیْسُوْرًاکے معنے ہیں مَایُسِّرُ خِلَافُ الْمَعْسُوْرِوَھُوَ مَصْدَرٌ عَلٰی مَفْعُولٍ بِمَعْنَی الْیُسْرِ۔مَیْسُوْرٌ اسم مفعول بھی ہے اورمصدر بھی اوراس کے معنی ہیں و ہ چیز جوآسان کی گئی ہویاآسانی۔السَّہْلُ۔سہولت۔وَمِنْہُ فَقُلْ لَہُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا اورفَقُلْ لَہُمْ قَوْلًامَّیْسُوْرًا میں قَوْلٌ مَیْسُوْرٌکے معنی نرم بات کے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت کے دومعنے ہیں (۱)جب تم اقرباء مساکین وغیر ہ سے اعراض کرویعنی ان کی مدد نہ