تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 325
اُفّ۔کلمہءِ ضجر ہے یعنی ناپسندید گی کاکلام۔یعنی یہ کہنا کہ مجھے یہ بات پسند نہیں اورنھرناپسندیدگی کوعملی جامہ پہنانے کوکہتے ہیں۔یعنی نہ منہ سے نہ عمل سے ان کو دکھ دو۔والدین کی خدمت کا موقعہ ملنے کے باوجود جنتی نہ بننا بد قسمتی ہے اسلام نے والدین کی خدمت کے لئے خاص ہدایات دی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے فَمَنْ اَدْرَکَ اَحَدَ وَالِدَیْہِ ثُمَّ لَمْ یُغْفَرْلَہ فَاَبْعَدَہُ اللہ عَزَّوَجَلَّ رَوَاہُ اَحْمَد(مسند احمد ،مسند الکوفیین حدیث ابی من مالک۔ابن کثیر زیر آیت ھذا) یعنی جس شخص کواپنے والدین میں سے کسی کی خدمت کاموقعہ ملے اورپھر بھی اس کے گناہ نہ معاف کئے جائیں تو خدااس پر لعنت کرے مطلب یہ کہ نیکی کا ایسااعلیٰ موقعہ ملنے پر بھی اگروہ خدا کافضل حاصل نہیں کرسکا۔توجنت تک پہنچنے کے لئے ایسے شخص کے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ اور(ان پر)رحم کرتے ہوئے ان کے لئے خاکساری کابازو جھکادے اور(ان کے لئے دعاکرتے وقت )کہاکر (کہ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًاؕ۰۰۲۵ اے )میرے رب ان پر (اسی طرح )مہربانی کر کیونکہ انہوں نے (میری)بچپن کی حالت میں میری پرورش کی تھی حلّ لُغَات۔وَاخْفِض وَاخْفِضْ خَفَضَ سے امرکاصیغہ ہے۔اور خَفَضَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں ضِدُّ رَفَعَہٗ۔اس کو نیچا کیا۔وَفِی القُرْاٰن وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ اَیْ تَوَاضِعْ لَہُمْ۔اور قرآن مجید کی آیت وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَمیں وَاخْفِضْ کے معنے تواضع کرنے کے ہیں۔خَفَضَ صَوْتَہٗ کے معنے ہیں۔اَخْفَاہٗ وَغَضَّہٗ۔آواز کو نیچا کیا۔خَفَضَ الصَّوْتُ:لَانَ وَسَھُلَ۔آواز نرم ہوگئی۔(اقرب) الْجَنَاحُ۔اَلْجَنَاحُ :مَایَطِیْرُ بِہِ الطَّائِرُ۔پرندے کا بازو۔یَدُا لْاِنْسَانِ۔انسان کا ہاتھ اَلْعَضُدُ۔بازو اَلْجَانِبُ جانب۔اَلْکَنَفُ۔پناہ۔(اقرب) الذلُّ۔الذلُّ اللِّیْنُ وَالسَّھُوْلَۃُ۔ذُلٌّ کے معنے نرمی اور آسانی کے ہیں۔وَالتَّوَاضُعُ۔تواضع۔اَلْاِنْقِیَادُ۔فرمانبرداری۔(اقرب) تفسیر۔اور ان کے لئے رحمت کے ساتھ اپنے انکسار کے بازو نیچے گرا دے۔اور یہ دعا کرتا رہ کہ اے