تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 28
ملک کااکثر حصہ بھی ایسے ہی پانیوں پر گذارہ کرتا ہے۔اور چونکہ عرب کا اکثر حصہ اونٹوں اوربکریوں بھیڑوں کے گلّوں پر گذارہ کرتاہے ا ن کا چارہ یعنی درخت بھی اسی پانی سے پلتے ہیں۔ظاہری سہولتوں کے پیدا کرنے سے روحانی سہولتوں کی طرف اشارہ ا س آیت میں بھی اسی پہلے مضمون کی طرف اشارہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کاموں کی سہولت کے لئے قانون قدرت میں ہزاروں اشیاء پیداکی ہیں جن سے تم فائد ہ اٹھاتے ہو۔پھر کیوں نہیں سمجھتے کہ تمہاری روحانی آسائش کاسامان بھی وہ ضرور کرےگا۔اورجب کہ دنیوی سامانوں کو تم شوق سے قبول کرتے ہو۔کیوں اس کے بنائے ہوئے روحانی سامانوںکو قبول نہیں کرتے۔اورجب کہ تم یہ مانتے ہوکہ خدا تعالیٰ کا تمہاری جسمانی ضرورتوں کو پوراکرنا اس کی شان کے خلاف نہیں۔تویہ کیوں سمجھتے ہوکہ خدا تعالیٰ کاروحانی سامان پیداکرنا اس کی شان کے خلا ف ہے۔اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے والے کا حق نہیں کہ وہ نبیوں کا انکار کرے حق یہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے وجود کاہی انکار کرتاہو اورمادی سامانوں کو آ پ ہی آپ سمجھتاہو۔وہ تویہ کہہ بھی سکتا ہے کہ نہ کوئی خداہے نہ و ہ کوئی سامان پیداکرتا ہے۔لیکن جو خدا تعالیٰ کے وجود کومانتا ہو اوریہ سمجھتاہوکہ خدا تعالیٰ نے اس دنیا کے سامانوں کو پیدا کیاہے اسے تو اس بات کے کہنے کاہرگز کوئی حق نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو کیاپڑی ہے یااسے کیا حق ہے کہ انسانوںکی ہدایت کے لئے نبی بھیجے اورکتابیں اتارے۔کیونکہ اس کا ایک عقیدہ دوسرے عقیدہ کو ردّ کرتاہے۔اوراسے اپنی غلطی معلوم کرنے کے لئے کسی اوردلیل کی ضرورت نہیں۔قانون قدرت سے پیدا شدہ سب سامان انسان ہی کے کام آتے ہیں اس آیت میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ قانون قدرت جس قدر ساما ن پیداکرتاہے وہ حقیقتاً انسا ن ہی کے کام آتے ہیں۔پانی بھی اترتا ہے تو اس کے لئے۔کیونکہ جانور اوردرخت اگراس سے پلتے ہیں توان کو بھی توانسان ہی استعمال کرتاہے۔پس آخری نقطہ کائنات کاانسان ہی ہے۔اوراس کی روحانی ترقی کے سامان پیداکرنا خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف نہیں۔بلکہ پیدانہ کرنااس کی شان کے خلاف ہے کہ ایک ایسی مخلوق پیداکی جس کے فائدہ کے لئے ایک حیرت انگیز وسیع نظام بنایا۔لیکن اس کی پیدائش کاکوئی اعلیٰ مقصد نہ قراردیا۔پہلی آیات میں حیوانات کی پیدائش کا ذکر تھااورحیوانی غذاکا۔اس آیت میں پانی کا ذکر کیا اورنباتی غذا کا۔اسی مضمون کو اگلی آیت میں اوروسیع کیاگیا ہے۔