تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 312
مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا (پس یاد رکھوکہ)جوہدایت کوقبول کرے گا۔تواس کاہدایت پانا اسی کی ذات کے لئے ہے اورجو (اسے ردّ يَضِلُّ عَلَيْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا کرکے)گمرا ہ ہوگا۔اس کاگمراہ ہونا اسی کے خلاف پڑے گا۔اورکوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسری (جان ) مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۰۰۱۶ کابوجھ نہیں اٹھائے گی اورہم (کسی قوم پر)ہرگزعذاب نہیں بھیجتے جب تک (ان کی طرف)کوئی رسول نہ بھیج لیں۔حلّ لُغَات۔اِھْتَدٰی اِھْتَدٰی ھَدَی سے باب افتعال ہے۔اورھَدَی کے لئے دیکھو رعد آیت نمبر۲۸۔(بنی اسرائیل آیت ۳) ضَلَّ کے لئے دیکھو یونس ۳۰(النحل آیت نمبر۸۸) تَزِرُ وَزَرَ سے مضارع مؤنث غائب کاصیغہ ہے۔اور وَزَرَہٗ کے معنے ہیں حَـمَلَہُ۔اس کو اٹھایا۔وَفِی اللِّسَانِ حَـمَلَ مَا یُثْقَلُ ظَھْرُہٗ مِنَ الْاَشْیَاءِ الْمُثْقَلَۃِاس نے بھاری بوجھ اٹھایا (اقرب) وَلَا تَزِرُ وازِرَۃٌ وِزْرَ اُخرٰی کے معنے ہوں گے۔کوئی بوجھ اٹھا نے والی جان دوسری جان کابوجھ نہیں اٹھائے گی۔اَلْوِزْرُ کی تشریح کے لئے دیکھو نحل آیت نمبر۲۶۔تفسیر۔اس آیت میںپہلی آیت کے مضمون کی وضاحت کی گئی ہے۔اوربتایا گیا ہے کہ انسان کے نیک اعمال اس کے فائدہ کاموجب ہوتے ہیں۔اوربداس کے نقصان کا۔پس جو کچھ انسان کرتا ہے دوسرے کے لئے نہیں کرتا اپنے لئے کرتا ہے۔قاتل دوسرے کونہیں اپنے آپ کو قتل کرتا ہے۔ظالم دوسرے پر نہیں اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔چور دوسر ے کا نہیں اپنا مال چراتا ہے۔اسی طرح صدقہ کرنےوالا دوسرے کو نہیں دیتااپنے آپ کودیتاہے۔دوسرے کوتعلیم دینے والا یاہدایت دینے والا اسے تعلیم نہیں دیتایاہدایت نہیں دیتا بلکہ اپنے آپ کو تعلیم دیتاہے اوراپنے آپ کو ہدایت دیتا ہے۔اس کے آگے فرماتا ہے کہ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى۔کوئی بوجھ اٹھانے والی جا ن کسی اورجان کا بوجھ نہیں اٹھا