تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 311
یہ معنے بھی اس کے ہوسکتے ہیں کہ ہرانسان کی نیک فالی اوربدفالی تواس کی گردن میں بندھی ہوئی ہے اوروہ دوسری چیزوں میں جاکر فالیں تلاش کرتا پھرتاہے۔گردن کالفظ اس لئے استعمال کیا۔کہ انسان جب نیکی کرے توسراونچاکرلیتا ہے۔اورجب بدی کرے تو ذلت کی وجہ سے گردن نیچی کرلیتا ہے۔پس اس لفظ کے استعمال سے اس طرف توجہ دلائی کہ انسان اپنے اعمال کاجائزہ اپنی گردن سے کرلیا کرے(ابن ماجہ کتاب الزھد باب ذکر الذنوب) یعنے دیکھے کہ وہ اپنے ہمرازوں اورہم جلسیوں میں گردن اونچی کرسکتا ہے یانہیں۔اگر اس کا دل اوراس کے ہمراز اسے بے عیب قراردیتے ہوں توسمجھ لے کہ اس کاقد م نیکی پر ہے۔لیکن اگراس کااپنادل اوراس کے ہمراز اس میں سوسوگند پاتے ہوں تولوگوں میں فخر کرنے سے اسے کیانفع ہو سکتا ہے۔وَ نُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا۔یہاں کتاب سے مراد جزاء ہے کیونکہ عربی میں کَتَبَ عَلَیْہِ کَذَاکے معنے قَضٰی عَلَیْہِ کَذَاکے ہوتے ہیں۔اور يَلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وہاں اس کے اعمال کی جزاظاہر ہونے لگ جائے گی۔وہ بیج کی طرح نہ رہے گی۔بلکہ درخت کی طرح پھیل جائے گی اورپھل پیداکرنے لگے گی۔اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًاؕ۰۰۱۵ (اوراسے کہا جائے گاکہ)اپنی کتاب (آپ ہی)پڑھ۔آج تیرانفس ہی تیراحساب لینے کے لئے کافی ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْحَسِیْبُ اَلْحَسِیْبُ وَالْمُحَاسِبُ : مَنْ یُحَاسِبُکَ۔اَلْحَسِیْبُ کے معنے ہیں حساب لینے والا۔(مفردات) تفسیر۔قیامت میں سب اشیاء اعمال سے متمثل ہوں گی ’’اپنی کتاب کو پڑھ‘‘کے الفاظ کایہ مطلب ہے کہ اب اپنی سزاکوبھگتو۔اوریہی سبق دُہراتے رہو۔كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا۔تیرانفس ہی آج تجھ پر کافی حساب لینے والا ہے۔اس سے معلو م ہوتاہے کہ سزاباہر سے نہ آئے گی۔بلکہ انسان کے اندرسے ہی پیداہوگی۔دوزخ میں جتنی چیزیں ہوںگی وہ انسان کے اعمال سے ہی متمثل ہوں گی۔اورجنت کی چیزیں بھی اسی طرح نیکیوں سے ہی متمثل ہوں گی۔پس گویا کوئی دوسراانسان کسی کوسزایاجزاء نہ دے گا۔بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو جزادینے والا اورخود ہی سزادینے والاہوگا۔