تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 300

سے جس نے تجھے پیدا کیا غافل ہوا۔اوراس خدا کو جس نے تجھی صورت بخشی بھول گیا۔اورجب خداوند نے یہ دیکھا توان سے نفرت کی اس لئے کہ اس کے بیٹوں اوراس کی بیٹیوں نے اسے غصہ دلایا۔اوراس نے یہ فرمایا کہ میں ان سے اپنامنہ چھپائوں گا۔تاکہ میں دیکھو ںکہ انجام کیا ہوگا اس لئے کہ وہ کج نسل ہیں۔ایسے لڑکے جن میں امانت نہیں انہوں نے اس کے سبب سے جو خدا نے مجھے غیرت دلائی اوراپنی واہیات باتوں سے مجھے غصہ دلایا۔سو میں بھی انہیں اس سے جو گرو ہ نہیں غیرت میں ڈالوں گااورایک بے عقل قوم سے انہیں خفاکروں گا کیونکہ میرے غصے سے ایک آگ بھڑکی ہے جو اسفل جہنم تک جلے گی او رزمین کو اس کے پیداوار سمیت کھاجائے گی اور پہاڑوں کی بنیادوں کو جلا دے گی۔میںا ن کی بلائوں کو ان کے اوپر بڑھائوں گا اوران پر اپنے تیروں کو خرچ کروں گا۔وہ بھوک سے جل جائیںگے۔اورسوزندہ گرمی اورکڑوی ہلاکت کے لقمے ہو ں گے۔میں ان پردرندوں کے دانتوں اورزمین کے زہر دار سانپوں کو چھوڑوں گا۔باہر سے تلوار اوراندر کے مکانوں سے خوف جوان کو اورکنواری کو بھی۔شیرخوار کو اور سرسفید کوبھی ہلاک کریںگے‘‘۔استثنا ء باب ۳۲آیت ۱۶تا۲۵۔یہ پیشگوئی پہلی پیشگوئی کے بعد بلکہ اس پیشگوئی کے بھی بعد کہ پہلے فساد کے بعد اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کوواپس یروشلم میں لے آئے گا۔بیان ہوئی ہے جس سے ظاہر ہے کہ اس سے پہلے عذاب کے بعد ایک دوسرے عذاب کی خبر دی گئی ہے۔اوریہ عذاب وہ دوسراعذاب ہے جس کا ذکر قرآن کریم نے لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ کے الفاظ میں کیا ہے۔عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ (اب بھی )کچھ بعید نہیں کہ تمہارارب تم پر رحم کردے اوراگر تم (پھراپنے اسی رویہ کی طرف)لوٹے توہم بھی (اپنی جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا۰۰۹ اسی سنت کی طرف) لوٹیں گے اور(یاد رکھو کہ)جہنم کو ہم نے کافروں کے لئے قید خانہ بنایا ہے۔حل لغات۔الحَصِیْرُ۔السِّجْنُ۔قید خانہ (اقرب) تفسیر۔بنی اسرائیل کے لئے کامل تباہی کے بعد ترقی کی امید قرآن کریم کے ذریعہ بنی اسرائیل کی کامل تباہی کی خبردینے کے بعد اب قرآ ن کریم انہیںامید کاپہلو دکھاتا ہے اورفرماتا ہے کہ بائبل