تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 301

کاجہاں تک تعلق ہے تم ہمیشہ کے لئے ہلاک کردئے گئے ہو مگرموسوی مذہب سے باہرہوکر تمہاری ترقی کی راہ ابھی کھلی ہے اوروہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ سے دوبارہ ترقی کرنے کا تمہاری قوم کو موقعہ دیا ہے اس موقعہ سے فائدہ اٹھائو اوراللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوجائو۔لیکن اگر تم نے اس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا تواللہ تعالیٰ کی سزائیں دوبار ہ تم کو آگھیریں گی اور تم بالکل تباہ ہوجائو گے۔دیکھو ان آیات میں یہودی قوم کو سمجھانے کے لئے کیسااحسن طریق اختیار کیا ہے خود ان کی کتب سے ان کی تباہی کی خبر دی ہے اوربتایا ہے کہ خود یہودی کتب کے مطابق اب کوئی مستقبل یہودیت کے لئے باقی نہیں۔پس جب خود ان کی کتب ان کی ہلاکت کافتویٰ دے چکی ہیں توان کو اس متروک راستہ کو چھوڑنے میں جسے خدا تعالیٰ چھڑواچکا ہے عذرنہیں ہوناچاہیے اوراسلام کو قبول کرکے دینی ودنیو ی انعامات حاصل کرنے چاہئیں۔اس نئے راستہ کے متعلق بھی بائبل میں خبر موجود ہے۔آنحضرت ؐ کے متعلق پیشگوئی بائیبل میں استثناء باب ۳۳آیت ۱تا ۳میں فرماتا ہے ’’اوریہ وہ برکت ہے جو موسیٰ مردِ خدا نے اپنے مرنے سے آگے بنی اسرائیل کو بخشی اور اس نے کہا کہ خداوند سیناسے آیا اورشعیرسے ان پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اوراس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔ہاں و ہ اس قوم سے بڑی محبت رکھتا ہے۔ا س کے سارے مقدس تیرے ہاتھ میں ہیں اوروہ تیرے قدموں کے نزدیک نزدیک بیٹھے ہیں اورتیر ی باتوں کو مانیں گے ‘‘۔یعنی اللہ تعالیٰ فاران سے جلوہ گر ہونے والے نبی کے ذریعہ سے پھریہود کی برکت کاسامان پیداکرے گا۔اگر وہ چاہیں توہدایت پاکر ترقی کرسکتے ہیں۔یہ پیشگوئی تباہی کی خبر کے معاً بعد دوسرے باب میں بیان ہوئی ہے۔مسلمانوں پر دو دفعہ تباہی آنے کی پیشگوئی یادرکھنا چاہیے کہ آیات مذکورہ بالاجہاں یہ بتارہی ہیںکہ یہود کامستقبل خود ان کی کتب کے رُو سے بالکل تاریک ہے وہاں مسلمانوں کوبھی توجہ دلائی ہے کہ مسلمانوں پر بھی اسی طرح دوبارہ ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے عذاب آئے گا۔مسلمانوں پر پہلی تباہی یعنی بنو عباس پر خطرناک تباہی کے دن چنانچہ پہلا عذاب خلافت عباسیہ کے خاتمہ پرآیا۔اس کاموجب بھی وہی تھا جوبائبل نے یہود کی تباہی کاموجب بتایا ہے۔یعنے فرغانہ کی فتح کے بعدمسلمانوں نے کثرت سے وہاں کی خوبصورت لڑکیوں سے شادیاں کرلیں۔یہ علاقہ بہت مشرک تھا۔ان عورتوں کے اثر سے مسلمانوں میں بھی مشرکانہ عقائد پیدا ہونے لگے۔اوراسلامی غیرت کمزورہونے لگ گئی۔آخر ایک وحشی