تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 298

اورپھرکے تجھ کو ان سب گروہوںمیں سے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھے تتّربتّرکیاتھا تجھے جمع کرے گا۔اگر تجھ میں سے کوئی آسمان کی اس انتہاتک بھگایاگیاہوگا تو خداوند تیر اخدا وہاں سے تجھے جمع کرے گااوروہاںسے تجھے پھیر لائے گا۔اورخداوند تیراخداتجھ کواس زمین جس پر تیرے باپ دادے قابض ہوئے لائےگااورتُواس کامالک ہوگا۔اوروہ تجھ سے نیکی کرے گااورتیرے باپ دادوں سے زیادہ تجھے بڑھائے گا‘‘استثنا باب۳۰آیت ۱تا۵۔ان آیات سے معلو م ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے پہلی تباہی کے بعد بنی اسرائیل کی دوبار ہ بحالی کی خبر دی تھی اوراسی کی طرف ان آیا ت میں اشارہ ہے اوراس بحالی کاحال یہ ہے کہ ۴۴۵قبل مسیح میداورفارس کے بادشاہ نے جس نے بابل فتح کرلیا تھا۔ا س صلہ میں کہ یہود نے اس کی مدد کی تھی ان کو واپس یروشلم جانے کی اجازت دےدی۔یہود کے ایک نبی نحمیاہ کودوبار ہ آبادکرنے کے لئے بھیجا گیا تاوہ یروشلم اور دوسرے یہودی مقامات کو دوبار ہ آباد کریں اس بادشاہ کانام خورس تھا اورانگریزی میں اسے سائرس لکھتے ہیں۔اس نے نہ صرف یہود کو ان کے وطن میںواپس جانے کی اجازت دی بلکہ وہ سامان جو وہاں سے نبوکدنضرلے گیاتھا وہ بھی ان کوواپس دےدیا۔(عزراباب۱ آیت ۲،۳،۷ ، ۸) (یہ عزراوہی عزیر ہیں جن کا قر آن کریم میں ذکر آتاہے کہ یہود انہیں خدا کا بیٹاکہتے تھے ) اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ (اب)اگرتم نیوکاربنو گے تونیکو کا ربن کر اپنی جانوں کو ہی فائدہ پہنچائوگے اوراگر تم براکروگے فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِيَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِيَدْخُلُوا تو(بھی)ان(ہی)کےلئے( براکروگے)پھر جب دوسری بار والا وعدہ (پوراہونے کا وقت )آگیا۔تاکہ وہ (یعنے الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِيُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تمہارے دشمن)تمہارے معزز لوگوں سے ناپسندیدہ معاملہ کریں اور(اسی طرح )مسجد میں داخل ہو ں۔جس طرح تَتْبِيْرًا۰۰۸ وہ اس میں پہلی بار داخل ہوئے تھے۔اورجس چیز پر غلبہ پائیںاسے بالکل تباہ(وبرباد )کردیں۔حلّ لُغَات۔لِیَسُوْءٗ:لِیَسُوْءٗ سَاءَ سے مضار ع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اورسَاءَ ہٗ(یَسُوْءُ ہٗ سَوْءً ا)