تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 297
ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ پھرہم نے تمہاری طر ف (دشمن پر )دوبارہ حملہ کی طاقت کولوٹادیا اورہم نے کئی قسم کے مالو ںاور(نیز)بیٹوں کے بَنِيْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا۰۰۷ ذریعہ سے تمہاری مدد کی۔اورہم نے تمہیں جتھے کے لحاظ سے بھی(پہلے سے )زیادہ کردیا۔حلّ لُغَات۔اَلکَرَّۃ۔کَرَّ الْفَارِسُ کَرًّاکے معنے ہیں فَرَّ لِلْجَوْلَانِ ثُمَّ عَادَ لِلْقِتَا لِ۔شہسوار نے پہلے میدان جنگ میں چکر لگایا۔پھر لڑنے کےلئے لوٹا۔اَلْکَرَّۃُ کے معنے ہیں۔اَلْمَرَّۃُ۔باری۔دفعہ۔اَلْحَمْلَۃُ فِی الْحَرْبِ۔لڑائی میں حملہ (اقرب)پس ثُمَّ رَدَدْنَالَکُمُ الْکَرَّۃَ کے معنے ہیں۔تمہاری طرف دوبارہ حملہ کی طاقت کو لوٹادیا۔نَفِیْرٌ۔اَلنَّفِیْرُ لِمَادُوْنَ الْعَشَرَۃِ مِنَ الرِّجَالِ۔دس سے کم لوگوں پر نَفِیْرٌ کالفظ بولتے ہیں۔اَلْقَوْمُ یَنْفِرُوْنَ مَعَکَ وَیَتَنَافَرُوْنَ فِی الْقِتَالِ۔وہ لوگ جو لڑائی کے لئے گھروں سے اکٹھے نکلیں۔وَقِیْلَ ھُمُ الْجَمَاعَۃُ یَتَقَدَّمُوْنَ فِی الْاَمْرِ۔اوربعض کہتے ہیں۔کہ نفیر لوگو ں کی اس جماعت کو کہتے ہیں جو کسی کام میں پیش قدمی کرے۔(اقرب) تفسیر۔یعنی ا س تباہی کے بعد پھر خدا تعالیٰ نے تم کو نجات دی اورطاقت عطا کی اور یہ اس طرح ہواکہ یہود کی اس تباہی کے بعد مید اورفارس کابادشاہ بابل پر چڑ ھ آیا اوربنی اسرائیل اپنے نبی کے حکم کے ماتحت اس کے ساتھ مل گئے اورا س نے ان کو قید سے آزاد کردیا۔اس کاتفصیلی ذکر سورۃ بقرہ میںحضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعہ میں گذر چکاہے۔یہود کی پہلی تباہی کے بعد نجات کی خبر بائیبل میں اس واقعہ کی نسبت حضر ت موسیٰ نے ان الفاظ میں پیشگوئی کی تھی ’’اوریو ں ہوگا کہ جب یہ سب کچھ تجھ پر گذرے گا۔برکت اورلعنت جنہیں میں نے تیرے آگے رکھا اورتوان سب گروہو ں میں جہاں جہاں خداوند تیراخدا تجھ کو بھگائے انہیں یاد کرے گااورتو خداوند اپنے خدا کی طر ف پھر ے گا۔اوران حکمو ں کے موافق جو آج میں نے تجھے کہے تُواپنے بال بچوںسمیت اپنے سارے دل اور اپنے سارے جی سے اس کی آواز کوسن لے گا۔تب خداوند تیراخدا تیری اسیری کو بدلے گا۔اورتجھ پر رحم کرے گا۔