تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 296
میں نے سبت کی بے حرمتی کے حوالے اس لئے دئے ہیں کہ اس جگہ صرف سخت عذاب کی خبر بتائی گئی ہے مگردرحقیقت اشار ہ سورہ نحل کی آیات کی طرف ہے جن میں کہاگیا تھا کہ اِنَّمَاجُعِلَ السَّبْتُ عَلی الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ(النحل :۱۲۵)یعنی سبت کاعذاب ان لوگوں پر نازل کیاگیاتھاجنہوں نے الٰہی کلام میں اختلاف کرکے دین کو نقصان پہنچایاتھا۔قرآن کریم کے مضامین کی ترتیب کی اس آیت میں ایک زبردست شہادت ہے کہ سورہ نحل جوبعد میںا ُتری ہے اس میں سبت کا ذکر ہے سورئہ بنی اسرائیل اس سے پہلے کی نازل شدہ ہے اوراس کے مضامین سورئہ نحل سے اس طرح چسپاں ہوجاتے ہیں گویاسورہ نحل پہلے کی ہے اوراِسراءبعد کی۔اوراس میں سورہ نحل کے مضامین کے جواب دیئے گئے ہیں اوران کی تکمیل کی گئی ہے۔تاریخ سے بابلیوں کی اس چڑھائی کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب یہود کمزور ہوگئے تواسوریوںنے فلسطین کو فتح کرکے اپنا تابع کرلیا۔لیکن اس کے بعد ایک مصری بادشاہ فرعون نیکو (PHARAOH NECHO)نامی نے اسورین حکومت کو تباہ کردیا۔اورفلسطین اسوریوں کی حکومت سے نکل کر مصر کی حکومت تلے آگیا۔فرعون مصر نے یوسیاہ کے بیٹے الیاقیم (اس کانام یہویقیم کردیا گیا) ELIAKIM کو وہاں کابادشاہ بنادیا۔لیکن اس دوران میں اسورین کی حکومت کی تباہی کودیکھ کر اس کے ہمسایہ کلدانی (CHALDEAN) بادشاہ نے اپنے بیٹے نبوکدنضر (NEBUCHADNEZZAR)کو نِیکو کے مقابلہ کے لئے بھیجا۔اورنبوکدنضر نے مصر کو فتح کرلیا۔اورفلسطین بابلیوں کے زیر اثر آگیا۔مگر فلسطین کا بادشاہ یہویقیم مصر کی طرف مائل رہا۔اس پر نبوکدنضرنے اس پر چڑھائی کی (یہ چڑھائی نبو کدنضر کے جرنیل نے کی ۵۸۷۔ق۔م۔جس کانام بنوز رآدم تھا )مگراس کے لشکر پہنچنے سے پہلے بادشاہ یہویقیم مرگیا۔اسکابیٹا یہویکین (JEHOICHIN ) تابِ مقابلہ نہ لاکر معافی کا طلبگارہوا۔اسے بابل بلالیا گیا۔اورصدقیاہ ( ZED CHIAH)(یہ یہویقیم کابھا ئی تھا اوراس کااصل نام متنیا ہ MATTANIAH تھا )کو فلسطین کابادشاہ بنادیا گیا۔مگراس نے بھی مصر کے بادشاہ حوفرا ( HOPHRA ) کی طرفداری کی۔اس پر بابلیوں نے ۵۸۸ قبل المسیح میں فلسطین کے دارالخلافہ کامحاصرہ کرلیا۔آخر ۵۸۶قبل مسیح میں شہر کی دیوار توڑ دی گئی۔صدقیاہ بھاگا۔مگر گرفتارکرلیا گیا۔اوربادشاہ کے حکم سے قید کرکے بابل پہنچایا گیا۔بابلیوں نے یہود کی مقدس عمارات کو جلادیا۔اورفصیل کو گرادیا۔اورشہر برباد کر دیا۔