تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 26
مِنْهَاکی ضمیرالسَّبِيْلِ کی طرف جاتی ہے۔سبیل مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے مِنْهَاکی ضمیرالسَّبِيْلِ کی طرف جاتی ہے۔کیونکہ وہ مذکر اورمؤنث دونوں طرح استعمال ہوتاہے۔مذکرکی مثال قرآن کریم کی یہ آیت ہے وَاِنْ یَّرَوْاسَبِیْلَ الرُّشْدِ لَایَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا۔وَاِنْ یَّرَوْاسَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْہُ سَبِیْلًا (الاعراف:۱۴۷) اورمؤنث کی مثا ل یہ آیت ہے قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِٓیْ اَدْعُوْٓااِلَی اللّٰہِ عَلٰی بَصِیْرَۃٍ(یوسف :۱۰۹) تاج العروس میں بعض ادباء کاقول ہےکہ سبیل مذکر ہی ہے۔اس کی طرف مؤنث کی ضمیر بالمعنیٰ پھر ائی جاتی ہے۔اورسبیل کے معنے مُـحَــجَّۃٌ کے لئے جاتے ہیں۔مگر یہ امتیاز صرف علمی ہے۔اصل مضمون پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ضمیر کو السَّبِيْلِ کی طرف راجع کرنے میں ایک نکتہ یہاں ضمیر کوالسَّبِيْلِ کی طرف راجع کرکے ایک عجیب نکتہ بیان فرمایا ہے اوروہ یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ انبیاء کے ذریعہ سے قَصْدُالسَّبِیْلِ(صراط مستقیم)بتاتا ہے۔پھر اس سیدھے راستے سے بگڑ کر ٹیڑھے راستے نکل آتے ہیں۔پس ایک الہام کے نزول کےبعد دوسرے الہام کے نزول کی ضرورت باقی رہتی ہے اورکوئی نہیں کہہ سکتاکہ ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب کے نازل کرنے کی کیاضرورت ہے۔کیونکہ جب لوگ قَصْدُالسَّبِیْلِ کو کاٹ کر اس میں سے جَآىِٕرٌ راستے نکال لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے لئے بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ پھر ایک اورنبی کی معرفت سیدھا راستہ لوگوںکو بتادے۔صرف ضمیر کے مرجع سے ا س وسیع مضمون کی طرف توجہ دلادی گئی ہے کہ سچے دین آخربگڑ کر گمراہی کاموجب ہوجاتے ہیں اوریہ کہ جَآىِٕرٌ راستے بھی قَصْدُالسَّبِیْلِ کے بگڑنے سے پیدا ہوتے ہیں۔پس کسی مذہب کاابتدائے نزول میں سچاہونا اُسے ہروقت کے لئے قابل عمل ثابت نہیں کرتا۔وَ لَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ۔اس میں فرمایا ہے کہ اگراللہ تعالیٰ ہدایت کاکام اپنے ہاتھ میں نہ رکھتاتواس کا ایک ہی منصفانہ طریق ہوسکتا تھا کہ انسانی فطرت کو ایسا بنادیاجاتاکہ وہ غلطی کی طرف جاہی نہ سکتی۔مگراس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ یہ حکمت کے خلاف تھا اورجب اس نے ایسا نہیں کیااورانسان کو مقدرت دی ہے کہ وہ غلط راستہ بھی اختیار کرسکتاہے یاصحیح راستہ کوغلط بناسکتا ہے۔توپھر اس کے سوااورکون سا منصفانہ طریق رہ جاتا ہے کہ و ہ ہدایت نازل کرکے انسان کو گمراہی سے بچنے اور روحانی ترقی کرنے کاموقعہ دیتا رہے۔