تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 25

روحانی کلام میں چھ باتوں کا پایا جانا اس اسلوب بیان سے ظاہر ہے کہ ہرروحانی کلام میں بھی ان چھ باتوں کاپایاجاناضروری ہے۔(۱)سردی گرمی کے اثرات سے بچاوے۔یعنی افراط و تفریط سے محفوظ رکھے۔محبت الٰہی کی کمی کانام سردی ہے اورمذہب کے معاملہ میں غلو سے کام لیتے ہوئے لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنا اورانہیں مجبو رکر نا کہ وہ اس مذہب کو قبول کر یں گر می ہے۔کلام الٰہی کاکام یہ ہے کہ ایک طرف محبت الٰہی پیداکرے اوردوسر ی طرف اپنے پیروئوں کو میانہ روی سے زندگی بسر کرنے کی تلقین کرے۔(۲)وہ غذاکاکام دے۔یعنی وہ روحانی طاقتوں کاضروری مجموعہ ہو۔اس میں وہ باتیں بتائی گئی ہوں جس سے بد ی کی رغبت سرد پڑتی ہو۔اورایسے عقائد کی تلقین کی گئی ہو جن سے اصلاح ہو کر روحانی طاقت وقوت پیداہو۔(۳)وہ جمال کاموجب ہو۔یعنی جو لوگ اس تعلیم پر عمل کریںوہ خوبصورت نظر آئیں۔یعنی اچھے معلوم ہوں۔دنیا ان کو دیکھ کرمحسوس کرنے لگ جائے کہ اس کلام نے ان لوگوں کے اندر تبدیلی پیداکردی ہے۔(۴)وہ سواری کاکام دے۔یعنی انسان کی ذات کو عرفان الٰہی کے ذریعہ سے جلدسے جلد خدا تعالیٰ تک پہنچا دے۔اورایک روحانی سفر کو غیر معمولی طوالت سے بچائے۔(۵)وہ انسان کے بوجھو ں کواٹھانے والاہو۔یعنی انسان کو اس کی ذمہ داریو ںکااحساس کرائے اوراسے رسوم و عادات کی تکلیف دہ زنجیروں سے آزاد کرکے حریت سے کام کرنے کے قابل بنائے۔(۶)طاقت و قوت دینے والاہو۔یعنی اس پر عمل کرنے سے دین اوردنیا میں عزت حاصل ہو۔قوم کانظام مضبوط ہو اوروہ دنیا میں باوقار زندگی بسرکرنے والی ہو۔اورآخرت میں عزت پائے جس کلام میںیہ چھ باتیں نہ ہوں وہ کلام الٰہی کہلانے کامستحق نہیں۔مِنْهَا جَآىِٕرٌکا مطلب وَ مِنْهَا جَآىِٕرٌ۔لوگ کہہ سکتے تھے کہ انسان کے خداتک پہنچنے میں الہام الٰہی کی کیا ضرورت تھی۔انسان خود ہی پہنچ جاتا اورخود ہی راستہ تلاش کرلیتا۔اس کے جواب میں فرمایاکہ وَ مِنْهَا جَآىِٕرٌ۔خود تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ بعض راستے غلط ہوتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ سیدھاراستہ نہ بتائے توبہت سے انسان غلط راستوں پرچل پڑیں گے اورتباہ ہوجائیں گے۔یہ عجیب بات ہے کہ ہرانسان تسلیم کرتاہے کہ بعض طوراورطریق ناپسندیدہ ہوتے ہیں اورباوجود اس کے بعض لو گ انہیں اختیار کرلیتے ہیں مگر باوجود اس اقرار کے بعض لوگ اس کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آئے۔