تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 295
اس کے بعد’’نیکو‘‘ایک مصر کاشہزادہ تھا۔اس نے اسوریوں کو شکست دی اور وہ نینواکی بجائے مصریوں کے باجگذار بن گئے۔۶۰۰سال قبل مسیح کے قریب اور حضرت دائود سے قریباً۴۰۰سال بعد یرمیاہ نبی کی معرفت ان کو ان کی خرابیوں پراللہ تعالیٰ نے پھر متنبہ کیا۔اوران کے گناہو ںپر انہیں پھر تنبیہ کی اورفرمایاکہ اگر اب بھی توبہ کرلو توو ہ جو تمہارے لئے جلاوطنی کی پیشگوئی تھی ٹلادی جائے گی مگر وہ باز نہ آئے۔(یرمیاہ باب ۷) آخراللہ تعالیٰ نے بابلیوں کوان کے عذاب کے لئے مسلّط کیا۔یہ واقعہ بائبل کی کتا ب ۲سلاسطین باب۲۵میں یوں لکھا ہے ’’شاہِ بابل نبو کدنضر نے اوراس کی ساری فوج نے یروشلم پر چڑھائی کی۔‘‘آیت ۱۔اوراس کامحاصرہ کرلیا۔یہ محاصرہ بہت دیر تک رہا۔اس وقت یروشلم کابادشاہ صدقیاہ تھا۔جب محاصرہ نے طول پکڑا توشہر کے اندر غلّہ کم ہوگیا لکھا ہے’’تب شہر ٹوٹا ‘‘آیت ۴یعنے بابل کی فوج نے فصیل توڑ دی۔آخر لوگ ایک طرف کادروازہ کھول کر بھاگے صدقیاہ بادشا ہ بھی بھاگا مگر پکڑاگیاا س کی آنکھیں نکالی گئیں اورآنکھیں نکالنے سے پہلے اس کے بیٹوں کو اس کے سامنے ہلاک کردیاگیا پھر اس کے پائوں میں بیڑیاں ڈال کر اسے بابل لے گئے آیت ۴تا۷۔اس کے بعد شاہِ بابل نے اپنے ایک افسر بنوزردان کویروشلم بھجوایا۔اس نے آکر ’’خداوند کاگھراوربادشاہ کا قصر (محل)اوریوروشلم کے سارے گھر ہاں ہرایک رئیس کاگھر جلادیا۔اورکُسدیوں کے سار ے لشکر نے جو جلوداروں کے سردار کے ہمراہ تھا ان دیواروں کو جو یروشلم کے گرداگردتھیں گرادیا اورباقی لوگوں کوجو شہر میں چھو ڑے گئے تھے اوران کو جنہوں نے اپنوں کو چھو ڑکے شاہِ بابل کی پنا ہ لی تھی تمام جماعت کے بقیّہ کے ساتھ بنوزردان جلوداروں کا سردار پکڑ کر لے گیا‘‘آیت ۹تا۱۱۔نحمیاہ نبی کی کتاب سے معلوم ہوتاہے کہ اس تباہی کاایک بڑاباعث سبت کی بے حرمتی تھی۔چنانچہ لکھا ہے ’’تب میں نے یہودا ہ کے شریف لوگوں سے تکرار کرکے کہا کہ یہ کیا بُراکام ہے جوتم کرتے ہو کہ سبت کے دن کومقدس نہیں جانتے ہو کیاتمہارے با پ دادوں نے ایسانہیں کیااورہماراخداہم پر اوراس شہر پر یہ سب آفتیں نہیں لایا؟ تب بھی تم سبت کے دن کو پاک نہ مان کے اسرائیل پر زیادہ غضب بھڑکاتے ہو ؟‘‘باب ۱۳آیت ۱۷۔۱۸۔اسی طرح حزقیل نبی نے بھی ا س وقت یہود کوڈرایا تھا۔انہوں نے ان کے بہت سے گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے ان میں سے ایک گناہ یہ گنایا ہے کہ’’تُونے میرے مقدسوں کو ناچیز جاناہے اور میرے سبتوں کو ذلیل کیا ہے ‘‘ حزقیل باب ۲۲آیت۸۔پھر باب ۲۳آیت ۳۸ میں ہے ’’اس کے سواانہوں نے مجھ سے یہ کیا ہے کہ اسی دن انہوں نے میرے مقدس کوناپاک کیا اور میرے سبتوں کو حرمت نہ دی ‘‘۔