تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 293

ان آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ احکام الٰہی کو توڑ دیں گے تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ ایک غیر قوم دور سے ان پر چڑھ آئے گی۔اوران کا محاصرہ کرے گی۔محاصرہ کے وقت قحط اوروباء پڑیں گے۔آخر ان کے شہروں کی فصیلیں توڑ دی جائیں گی بادشاہ قید کرکے لے جایا جائے گا۔اورقوم جلا وطن کرکے دور علاقوں میں بھیج دی جائے گی۔یہ پیشگوئی ان دوفسادوں میں سے جن کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے پہلے فساد کی نسبت ہے۔قضا کے معنی یہ جو فرمایا قَضَيْنَاۤ اِلٰى بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اس کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے ایک وحی کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو آئندہ آنیوالی اس مصیبت سے خبر دے دی تھی مگرافسوس کہ وہ پھر بھی ہوشیار نہ ہوئے۔انسان کو ہوشیار کرنے کے دو مقصد دراصل پہلے بتانے سے غرض ہوشیارکرناہی ہوتاہے اورہوشیا رکرنے کے دومقصد ہوتے ہیں۔(۱)انسان کوشش کرے اوربچ جاوے۔(۲)اگر نہ بچے تواس پر حجت پوری ہو۔آنحضرت ؐ کا اپنی امت کو ہوشیار کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت کے متعلق فرمایا ہے لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ (بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب قول النبی لتتبعن سنن من کان قبلکم )کہ تم پہلے لوگوں کے طریقہ پر عمل کروگے۔اوربعض احادیث میں ہے کہ یہود و نصاریٰ کے نقش قدم پرچلو گے مگر افسوس کہ باوجود ہوشیارکردینے کے مسلمان بھی اس آفت سے نہ بچے۔فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِيْ اورجب ان دو(بارکے فسادوں)میں سے پہلی(بار)کاوعدہ (پوراہونے کا وقت )آیا۔توہم نے اپنے بعض ایسے بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ وَ كَانَ وَعْدًا بندوں کو (تمہاری سرکوبی کے لئے )تم پر (مستولی کرکے )کھڑاکردیا۔جوسخت جنگ جو تھے اوروہ مَّفْعُوْلًا۰۰۶ (تمہارے)گھروںکے اند رجاگھسے۔اور یہ (وعدہ بہرحال)پوراہوکر رہنے والاوعدہ تھا۔حلّ لُغَات۔اُوْلِی بَاسٍ۔اُولُوْ جمع ہے جس کے معنے ذَوُوْ کے ہیں (یعنی فلاں صفت والے ) اس