تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 291
غالب آیا۔عَلَا فُلَانًابِالسَّیْفِ ِ:ضَرَبَہُ۔اسے تلوارماری۔عَلَاالْمَکَانَ۔صَعِدَہُ۔کسی جگہ پر چڑھا۔عَلَا فِی الْمَکَارِمِ۔شرف خوبیوں میں ممتازہوا (اقرب) پس وَلَتَعْلُنََّّ کے معنے ہوں گے۔کہ تم سرکشی کروگے۔تفسیر۔مسلمانوں کے لئے یہود سے عبرت حاصل کرنے کا موقعہ فرمایا کہ تمہارا نبی مثیل موسیٰ قراردیاگیا ہے اوراس مشابہت کو پوراکرنے کے لئے اسے بیت المقدس اوراس کے گرد کا علاقہ دیاجانے والا ہے۔پس تم کو اس امر میں احتیاط کرنی چاہیے کہ جو کچھ بنی اسرائیل سے بعدمیں معاملہ ہواوہ تم سے نہ ہو اورو ہ واقعہ یہ بیان فرماتا ہے کہ بنی اسرائیل کے متعلق ہم نے خبر دی تھی کہ دودفعہ تم دنیا میں عظیم الشان فساد کے مرتکب ہوگے۔اورسخت مظالم کرو گے اور تم کو اس کی سزا میں تباہ کردیاجائے گا۔گوسزادینے کا یہاں لفظاً ذکر نہیں کیا گیا۔لیکن اگلی آیت سے یہ مضمو ن ظاہر ہے۔اس آیت سے دو امور کا ثبوت اس آیت سے مندرجہ ذیل امور نکلتے ہیں(۱)اس میں قَضَیْنَا فی الْکِتٰبِ کے الفاظ ہیں۔جن سے مراد حضرت موسیٰ کی کتاب ہے (۲)اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل کے دودفعہ باغی ہو کر الٰہی عذاب میں مبتلاہونے کی خبر اس کتاب میں پہلے سے دےدی گئی تھی۔نئے اورپرانے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں دوغلطیاں کی ہیں۔اول تویہ کہ بنی اسرائیل کی تباہی کے بعض واقعا ت تودرج کردئے ہیں۔لیکن قرآنی الفاظ کی صداقت کے اظہارکے لئے وہ پیشگوئی درج نہیں کی۔جس کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے۔دوم جنہوں نے پیشگوئی بیا ن کرنے کی طرف توجہ کی ہے انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ پیشگوئی موسیٰ علیہ السلام کی کتاب میں بیان کی گئی تھی۔میں نے ان دونوں امور کو مدنظر رکھا ہے اورموسیٰ کی کتب سے پیشگوئیاں بیا ن کی ہیں اورواقعات تاریخی جمع کرکے لکھے ہیں۔عَلَا کے معنی عَلَا بمعنے ظلم ہے یعنی تم لوگوں کے اوپر ظلم کروگے جبر کرنے لگ جائو گے اورتکبرکرو گے اور ظلم سے کام لو گے۔کیونکہ عَلَا (یَعْلُوْ۔عَلُوًّا) فُلَانٌ کے معنی ہوتے ہیں۔تَکَبَّرَ وَتَجَبَّر یعنی تکبر کیا اورظلم سے کام لیا۔وَعَلَا فُلَانًا بِالسَّیْفِ :ضَرَبَہٗ۔اس کو تلوار سے مارا۔یہود کی تباہی کا ذکر بائیبل میں فِی الْکِتٰبِ۔کہہ کر یہ بتایا ہے کہ اس کا ذکر موسیٰ کی کتاب میں ہے۔چنانچہ موسیٰ کی کتاب میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے استثناء باب ۲۸۔آیت ۱۵میں لکھا ہے ’’لیکن اگر تُو خداوند اپنے خدا کی آواز کاشنوانہ ہو گا کہ اس کے سارے شرعوں اورحکموں پر جو آج کے دن مَیں تجھے بتاتاہوںدھیان رکھ کے عمل