تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 286
مگریہ بھی ایک پیشگوئی کے ماتحت ہے۔اس کا زمانہ ختم ہونے پر پھر یہ ملک واپس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کے ہاتھ میں آجائے گا۔خواہ بہت جلد خواہ کچھ وقفہ کے بعد اس صورت میں راتوں رات وہاں جانے کے یہ معنے لئے جائیں گے کہ بیت المقدس کی فتح ظاہری جنگوں کے سبب سے نہ ہوگی بلکہ اس رات کے دیکھے ہوئے نظارہ کی وجہ سے ہوگی۔چنانچہ واقعہ بھی یہی ہے ورنہ عربوں کا ایک چھوٹاسالشکر قیصر جیسے بڑے بادشاہ کامقابلہ کب کرسکتا تھا۔یہ توالٰہی کلام جو سورۃ اسراء والی رات میں ناز ل ہواتھا اسی کااثر تھا کہ بے سروسامان عربوںکے سامنے قیصر کاباسامان اورفنون حرب کی تعلیم پایا ہوالشکر اس طرح بھاگتاجاتاتھا جیسے شیر کے سامنے ہوں۔اگر کوئی اعتراض کرے کہ یہ ملک توحضرت عمرؓ کے زمانہ میں فتح ہواتھا۔تواس کا جواب یہ ہے کہ نبی کے اتباع پیشگوئیوں میں اسی کے وجود میں شامل سمجھے جاتے ہیں اوراس کی مثالیں کثرت سے اسلام اورپہلے انبیاء کے لٹریچر میں پائی جاتی ہیں۔مسجد اقصیٰ کو دیکھنے سے عیسائیت اور یہودیت پر اقتدار کی طرف اشارہ (۴)چوتھی بات تعبیر الرؤیاء کے مطابق میں نے یہ بتائی تھی کہ علاقہ کے علماء بھی مسجد کی شکل میں دکھائے جاتے ہیں اس تعبیر کے مطابق ہم دیکھتے ہیں کہ اس ملک پر نہ صرف سیاسی قبضہ مسلمانوں کوحاصل ہوا بلکہ مذہباً بھی اکثر حصہ ملک کامسلمان ہوگیا او ر تیر ہ سوسال میں یروشلم اسلامی علماء کا مرکز بنارہاہے۔یہ تغیرپیداکرنا بھی کسی انسان کی طاقت میں نہ تھا اللہ تعالیٰ ہی ایساکرسکتاتھا۔آنحضرت ؐ کے واقعہ اسراء اور موسیٰ کے سفر میں فرق یہ عجیب بات ہے کہ موسیٰ کو بھی ایک نظارہ دکھایا گیا تھا اوراس کے متعلق جو الفاظ آتے ہیں وہ بھی اس واقعہ کے الفاظ سے ملتے جلتے ہیں۔حضرت موسیٰ ایک سفر پر تھے کہ انہوں نے ایک جگہ آگ دیکھی تواللہ تعالیٰ نے فرمایا بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (النمل :۹)کہ جو اس آگ میں پڑے گا وہ بھی بابرکت اورجو اس کے گرد آکر بیٹھے گاوہ بھی بابرکت ہوگا اور وہ آگ محبت الٰہی کی آگ تھی اورپھر جس طرح وہاں سبحان کالفظ آیا تھااسی طرح اس جگہ سبحان بھی آیا ہے۔اورجس طرح وہاں حَوْلَہُ آیا ہے اسی طرح یہاں بھی بَارَکْنَا حَوْلَہُ فرمایا ہے بعض نے اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آگ سے مراد اللہ تعالیٰ ہے (قرطبی زیر آیت بورک من فی النار)مگر یہ غلط ہے۔کیونکہ آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ جو آگ میں ہے اسے برکت دی گئی ہے۔پس آگ سے مراد اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ محبت الٰہی ہے اوریہ بتایاہے کہ جو محبت الٰہی کی آگ میں اپنے آپ کو ڈا ل دے اُسے برکت دی جاتی ہے محبت کو دنیا کی کل زبانوں میں آگ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔بات یہ ہے کہ جس جگہ اللہ تعالیٰ اپناجلال دکھاتا ہے اس کو برکت دیتا ہے اوروہاں سے اس کی