تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 283
یہ کوئی ایساسفر ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے خاص نشان ظاہر ہوں گے۔اوروہ ہجرت ہی کاسفر تھا جس نے اسلام کامستقبل جودنیاکی نگاہ سے پوشیدہ تھا ایسے شاندار طورپر ظاہرکردیا۔اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ میں بھی اسی مضمون کی تائید ہوتی ہے۔کیونکہ بیت المقدس کو محض کشف میں دیکھ لینا خدا تعالیٰ کے سمیع و بصیر ہونے کاثبوت پیش نہیں کرتا لیکن مدینہ کی ہجرت ان دونوں صفات کا ثبوت پیش کرتی ہے۔سَمِیْعٌ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے بندوں کی دعائیں سننے والا ہے۔بَصِیْرٌ اس طرح کہ جن کامیابیوں کی ہجرت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی تھی وہ بعینہٖ پوری ہوگئیں۔نیز ا س طرح کہ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جس طرح نگہداشت کی وہ ایک بصیر خداکے وجود کی بیّن شہادت تھی۔اوریہ جو مسجد نبویؐ کو مسجد اقصیٰ کہاگیا اورمدینہ کو یروشلم کی شکل پر دکھایاگیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ جوبرکات اس شہر کو اوراس مسجد کو ملی تھیں۔وہی مسجد نبوی ؐ اورمدینہ منورہ کو ملنے والی تھیں۔اگرکہا جائے کہ کیوں مسجد نبویؐ کو مسجد حرام سے تشبیہ نہ دی گئی اورمسجد اقصیٰ سے دی گئی ؟تواس کا جواب یہ ہے کہ اول تومسجد حرام کو بعض زائد خصوصیات حاصل ہیں جوارکان حج سے تعلق رکھتی ہیں۔اوریہ خصوصیات بیت المقدس یامسجد نبوی کو حاصل نہیں۔دوسرے بیت المقدس کو کشف میں دکھانے سے یہ بھی بتانا مقصود تھا کہ آپ کی امت ان علاقوں پرقابض ہوجائے گی۔اوریہ مضمون مسجد حرام کے دکھانے سے ظاہر نہ ہوتا تھا۔پس چونکہ ابھی بعض سیاسی وجوہ کی بناء پر وہ وقت نہ آیاتھا کہ اصل نام ظاہر کیا جاتا۔اس لئے تشبیہاً مسجد نبوی کانام مسجد اقصیٰ رکھ دیا۔اورمدینہ کو یروشلم کی شکل میں دکھایا۔یہ پیشگوئی جس رنگ میں پوری کی گئی وہ ذیل کی روایت سے ظاہر ہے۔عَنْ اَبِی ھُرِیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَاتَشُدُّوْا الرِّحَالَ اِلَّا اِلٰی ثَلٰثَۃِ مَسَاجِدَ اَلْمَسْجِدِ الْـحَرَامِ وَمَسْجِدِ الرَّسُوْلِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی۔آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ سواری پرچڑھ کر کسی مسجد کی طرف نہ جانا چاہیے۔سوائے تین مساجد کے ایک مسجد حرام۔دوسری مسجد اقصیٰ اورتیسری مسجد نبوی ؐ(بخاری کتاب الجمعة باب فضلِ الصلوٰۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ) مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ میں مشابہت اس جگہ مسجد نبوی اورمسجد اقصی کو آپس میں مشابہت دی ہے۔پس مسجد نبوی کی بنیادسے مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کی پیشگوئی پوری ہوگئی۔اس مسجد کی طرف جانے کے علاوہ اس آیت میں ایک اور بات بھی بتائی گئی تھی۔اوروہ یہ کہ مسجد اقصیٰ وہ جگہ ہے جس کے اردگرد کوبھی برکت دی گئی ہے۔یعنی جس شہر میں وہ ہے اسے بھی معززاور مکرم بنادیاگیا ہے۔اس خبر کے مطابق نہ صرف مسجد نبوی کو برکت دی گئی بلکہ اس کے