تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 279

کہ قرآن کریم نے بھی اس کا نام رؤیا ہی رکھا ہے۔جیسے اسی سور ۃ کے چھٹے رکوع میں فرمایا وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ(بنی اسرائیل:۶۱)۔کہ یہ رؤیا لوگوں کے فتنے کے لئے تھی۔چنانچہ ا س آیت کی وجہ سے کئی صحابہ اورسابق علماء نے بھی اسے رؤیاہی قرار دیا ہے۔چنانچہ ابن اسحاق اورابن جریر نے حضرت معاویہؓ سے روایت کی ہے کہ اِذَاسُئِلَ عَنْ مَسْرٰی رسول اللہ ِصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قال کانَتْ رُؤْ یَا منَ اللہِ صَادِقَةً۔(درمنثورزیر آیت ھذا)یعنی جب حضر ت معاویہ ؓ سے اسراء کے متعلق پوچھاگیا توآپ نے فرمایاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رؤیاتھی جو پوری ہوگئی۔حضرت عائشہؓ کا بھی یہی مذہب بتایاجاتاہے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکرالاسراء حدیث عائشۃ عن مسراہ صلی اللہ علیہ وسلم وزاد المعادجلد ۳ فصل فی الاسراء والمعراج) (۳)تیسراثبوت اس کایہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب میں نے یہ بات لوگوں کو سنائی۔تولوگوں نے کہا کہ اگرآپ بیت المقدس سے ہوآئے ہیں تواس کانقشہ بتائیں۔توآپ فرماتے ہیں کہ میں بالکل بیت المقدس کو نہ جانتاتھا۔اگرآنحضرت صلی اللہ علیہ سلم فی الحقیقت ظاہری طورپر بیت المقدس میں گئے تھے توآپ کو چاہیے تھا کہ آپ نقشہ بتادیتے۔یہ تونہ فرماتے کہ میں نہ جانتا تھا۔پھر آنحضرت صلعم فرماتے ہیں کہ ان کے سوال کرنے کے بعد پھرمجھ پر کشف کی حالت طاری ہوئی۔اورکشف میں بیت المقدس کا نقشہ سامنے کر دیا گیا۔تومیں اس کو دیکھتاجاتاتھا اورپھر لوگوں کو بتاتاجاتاتھا۔چنانچہ جابربن عبداللہ کی راویت ہے۔آپ نے فرمایا۔فَـجَلَّی اللہُ لِیَ الْبَیْتَ المَقْدِسِ فَطَفِقْتُ اُخْبِرُھُمْ واَنااَنْظُرُ اِلَیْہِ۔کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کومیرے سامنے کردیا۔میں اس کو دیکھتا اورلوگوںکوبتاتاجاتا تھا۔(ابن کثیر زیر آیت ھذا) اس حدیث سے ظاہر ہے کہ چونکہ وہ کشف تھا آ پ سمجھتے تھے کہ ممکن ہے جومیں نے دیکھا ہے اس طر ح ظاہری طورپر نہ ہو۔پس آپ نے اس کے بیان کرنے سے ہچکچاہٹ کی۔مگرچونکہ اس واقعہ کے بیان کرنے سے لوگوں میں مخالفت اوراستہزاکاہیجان پیداہوگیاتھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لو اب ہم تم کواصل صورت میں بیت المقدس دکھادیتے ہیں۔چنانچہ دوبارہ کشف ہو ااورآپ نے اس کے مطابق لوگوںکو بیت المقدس کانقشہ بتادیا۔جس کی کفار میں سے واقف کار لوگوں نے تصدیق کی۔متعصب عیسا ئی مصنف اس موقعہ پرلکھتے ہیں کہ بیت المقدس کے نقشے اس وقت بن چکے تھے(تفسیر قرآن از ویری جلد ۳ صفحہ ۵۶)۔ممکن ہے یہ درست ہو۔مگرذرایہ مصنف کسی ایسے شہر کے متعلق نقشہ دیکھ کر جوان پر سوال کئے جائیں ان کا جواب تودے کر دیکھیں۔