تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 280

کشف اور رؤیا کی تعریف میں فرق اس جگہ یہ امر یاد رکھنے کے قابل ہے کہ گوقرآن کریم میں اس کے متعلق رؤیاکالفظ آیا ہے مگرا س لفظ سے دھوکا کھا کر اسے عام خوابوں کی طرح نہیں سمجھنا چاہیے۔کیونکہ عربی میں رؤیا کامفہوم اَورہے اوراردومیں اَور۔اردومیں تورؤیا اس نظارہ کو کہتے ہیں جو انسان سوتے ہوئے دیکھتا ہے۔لیکن عربی میں کشف اورعام خواب دونو ںکے لئے رؤیاکالفظ بولاجاتاہے۔اورکشف عام رؤیا سے مختلف ہوتاہے۔وہ سوتے میں نہیں دیکھاجاتا بلکہ بیَن النَّوم والیقظہ کی حالت میں دیکھاجاتاہے۔یعنی جبکہ ایک ربودگی کی سی حالت توانسان پر طاری ہوتی ہے مگر وہ سونہیں رہاہوتا۔بلکہ اس کے ظاہری حواس بھی اس وقت اپناکام کررہے ہوتے ہیں۔بلکہ بعض دفعہ دوسرے سے باتیں کرتے کرتے ایک نظارہ نظرآجا تا ہے۔انبیاء کاکشف دوسرے لوگوں کے کشوف سے زیادہ لطیف ہوتاہے اوروہ کشفی نگاہ سے دوردور کے مادی امورکو بعینہٖ معائنہ کرلیتے ہیں۔کشف کی تین اقسام کشف کی بھی تین قسمیں ہوتی ہیں۔(۱)ایسا کشف جس میں دکھائے جانے والے نظارے اسی شکل میں دکھائے جاتے ہیں۔جس شکل میں کہ وہ مادی دنیا میں موجود ہوتے ہیں اوروہ کشف بالکل ایساہوتا ہے جیسے دوربین سے دورکی چیز دیکھ لی جاتی ہے۔(۲)ایساکشف جس کا کچھ حصہ توایساہوتاہے جواوپر بیان ہواہے اور کچھ حصہ تعبیر طلب ہوتاہے۔(۳)ایسا کشف جو ساراکاساراتعبیر طلب ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کایہ کشف دوسری قسم کاتھا یعنی بعض حصے تو اسی طرح دکھائے گئے تھے جس طرح کہ مادی دنیا میں واقع ہورہاتھا۔اوربعض حصے تعبیر طلب تھے۔تعبیر طلب حصوںکا ذکرتو میں اوپر کرآیا ہوں۔ظاہری شکل میں دکھائے جانے والے حصہ کے بارہ میں احادیث میں آتا ہے کہ واپسی کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک قافلہ مکہ کی طرف آرہاہے۔اوراس قافلہ والوں کاایک اونٹ گم ہوگیا ہے جس کی وہ تلاش کررہے ہیں۔اورچند دن بعد معلوم ہواکہ بعینہٖ یہ واقعہ مکہ کے ایک قافلہ سے پیش آیا تھا۔چنانچہ جب وہ قافلہ مکہ پہنچا توانہوں نے اس امرکوتسلیم کیا۔(الخصائص الکبریٰ حدیث شداد بن اوس جلد او ل ص ۱۵۸و۱۵۹) کشف کے متعلق ذاتی تجربہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں کشوف کے متعلق خود صاحب تجربہ ہو ںاوریہ امور اپنے مشاہد ہ کی تصدیق سے لکھ رہاہوں۔اسراء کے کشف سے غرض ہجرت تھی اب میں یہ بتاتاہوں کہ اس کشف کا مقصد کیا تھا ؟میرے نزدیک اس کشف میں ہجرت مدینہ کی خبر دی گئی تھی۔اوربیت المقدس جو آپ کو دکھا یاگیا اس سے مراد مسجد نبویؐ کی تعمیر تھی۔