تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 277

رات ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔اسراء میں بڑھیا دیکھنے سے مراد دنیا پھر آپ کو جبرائیل نے کہا کہ جو بڑھیا آپ نے رستہ کے ایک جانب دیکھی تھی وہ دنیا تھی۔اوراس کی عمر سے اسی قد رباقی ہے جوکہ اس بڑھیا کی عمر باقی ہے۔اورجو شخص رستہ سے ہٹ کر آپ کو بلاتاتھا۔تاآپ اس کی طرف مائل ہوں وہ خدا کادشمن ابلیس تھا۔اوروہ لوگ جنہوں نے آپ کو السَّلَامُ عَلَیْکَ کہا وہ ابراہیم موسیٰ عیسیٰ وغیر ہ تھے۔یہاں تک ابن جریر کی روایت ختم ہوئی۔اس کے بعد ابن کثیر کے حوالے سے جو عبارت لکھی گئی ہے اس کایہ ترجمہ ہے کہ حافظ بیہقی نے بھی دلائل النبوت میں ابن وہب سے یہی روایت بیان کی ہے مگراس میں بعض الفاظ قابل اعتراض ہیں اور دوسرے اسناد سے ان کی تصدیق نہیں ہوتی اورایک اَورسند کے ساتھ انہوں نے انس بن مالک سے یہی روایت کی ہے مگر اس میں بعض ایسی باتیں بیان کی ہیں جن کی دوسری احادیث سے تصدیق نہیں ہوتی۔اوریہ روایت سنن نسائی کی ایک خلاصہ میں بھی میں نے دیکھی ہے۔مگربڑی سنن نسائی میں وہ حدیث نہیں ملی۔حدیث اسراء بروایت انس بطور معیار یہ وہ حدیث ہے جوہمارے لئے معیار کے طور پر ہے کیونکہ میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ صحیح اور سچی ہے۔اوراس میں صرف ایک غلطی ہے۔اوروہ یہ کہ جہاں پیالے پیش کرنے کا ذکر ہے وہاں پانی کے بعد دودھ اورپھر شراب کا ذکرکیا ہے مگرابن کثیر نے اس روایت کواپنی کتاب کی جلد ششم ص۸، ۹پر جس طرح نقل کیا ہے اس میں پانی کے بعد شراب اورپھر دو دھ کا ذکرکیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض نسخوں میں اسی ترتیب سے پیالوں کا ذکرکیا گیا ہے۔میں آگے چل کربتائوں گاکہ اس معمولی تغیر کی اصلاح کیوں ضروری ہے اس وقت صرف یہ بتاناچاہتاہوں کہ بعض دوسری روایات میں زورسے اس امر کو بیان کیاگیاہے کہ پہلے پانی کاپیالہ اورپھر شراب کاپیالہ اورپھر دودھ کاپیالہ پیش کیاگیا تھا۔چنانچہ الطبرانی اورابن مردویہ نے صہیب بن سنان سے روایت کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں۔قَالَ لَمَّاعُرِضَ عَلٰی رَسُولِ اللہ صَلَی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃَ اُسْرِیَ بِہِ الْمَاءُ ثُمَّ الْـخَمْرُ ثُمَّ اللَّبَنُ اَخَذَ اللَّبَنَ (خصائص الکبریٰ باب خصوصیَّتُہ صلی اللہ علیہ سلم حدیث صہیب صفحہ ۱۵۹) یعنی صہیب روایت کرتے ہیں کہ جس رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسرا ء ہواتھا۔آپ کے سامنے تین پیالے پیش کئے گئے تھے۔پہلے پانی کا اس کے بعد شرا ب کااوراس کے بعد دودھ کا۔اس حدیث میں پانی کے بعد شراب اوراس کے بعد دودھ کے پیش ہونے کو بالجزم بیان کیاگیا ہے۔پس اس