تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 24

نَقِیْضُ الْاِفْرَاطِ۔میانہ روی۔وَعَلَی اللّٰہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ اَیْ بَیَانُ الطَّرِیْقِ الْمُسْتَقِیْمِ الْمُوْصِلِ اِلَی الْحَقِِّّ۔اور عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِکے معنے ہیں حق تک پہنچانے والے سیدھے رستے کا بیان کرنا اللہ کے ذمہ ہے۔(اقرب) جَائِرٌ۔جَائِرٌ جَارَ (یَجُوْرُ جَوْرًا)سے اسم فاعل ہے اوراَلْجَائِرُ کے معنے ہیں۔اَلْحَائِدُ عَنِ الْقَصَدِ راستہ کی سیدھ سے ایک طرف ہونے والا۔الزَّائغُ عَنِ الطَّرِیْقِ۔کج رَو۔اَلظَّالِمُ۔ظالم۔(اقرب) تفسیر۔وَ عَلَى اللّٰهِ قَصْدُ السَّبِيْلِ کے معنے ہیں۔خدا تعالیٰ پر سیدھے راستے کابتاناواجب ہے۔یعنی حقٌّ علی اللہ ِ بَیَانُ قَصدِ السَّبِیْلِ۔یہی مضمون دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان ہواہے اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی ( اللّیل:۱۳) یعنی ہدایت کابیان کرنا ہماراہی کام ہے۔اورہم ہی پرواجب ہے۔قَصْدُ السَّبِیْلِ سے بتایاکہ سیدھا راستہ یا افراط و تفریط سے محفوظ راستہ اللہ تعالیٰ ہی بتاسکتا ہے۔ورنہ انسان جب بھی دنیا کے لئے کو ئی راستہ تجویز کرتاہے اس میں افراط و تفریط سے کام لیتا ہے۔اس میں یہ بھی بتایا ہے کہ کوئی انسان بھی ایسا نہیں (سوائے اس کے جو خدا تعالیٰ کی نگرانی میں ہو)جو جنبہ دار نہ ہو۔کسی سے اُسے عداوت ہوتی ہے کسی سے محبت۔کسی کو اپناسمجھتا ہے اور کسی کوغیر۔اس لئے انسانی قوانین میں ہمیشہ یہ نقص ہوتا ہے کہ بعض کے حقو ق تلف کئے جاتے ہیں اوربعض کو زیادہ دیاجاتاہے۔پس وہ قانون جس میں سب کے حقوق کاخیال رکھا جائے۔نہ کسی کے حق میں کمی کی جائے۔نہ کسی کا حق لے کر دوسرے کو دیا جائے صرف اللہ تعالیٰ بناسکتا ہے۔جو مخلوق کی مدد کا محتا ج نہیں۔اورسب ہی اس کے بندے ہیں۔یہ کیسی زبردست سچائی ہے۔ہزاروں سالوں سے انسان قانون بنارہاہے۔مگر کس طرح اس میں کسی کی حق تلفی کی جاتی ہے اور کسی کو حق سے زیاد ہ دیاجاتاہے۔آج کل کے سیاسی اختلافات کو ہی دیکھو۔کوئی حکومت مزدوروں کے حق کو دبارہی ہے توکوئی انہی کو سب کچھ دے کر دوسروں کو حقوق انسانیت سے ہی محروم کررہی ہے۔اسی طرح انسان چونکہ جذبات کاغلام ہوتاہے۔جوقانون بناتا ہے وہ اپنے جذبات کو نمایا ں کردیتاہے۔ساری دنیا کے جذبات کاخیال نہ رکھتا ہے نہ رکھ سکتا ہے۔اگر رہبانیت کی طرف میلان رکھنے والا دنیا ترک کردینے کا نام ہی نیکی رکھتاہے تودنیا کاحریص دنیوی ترقیات کا نام ہی نیکی رکھتاہے۔اس نقص سے وہی تعلیم پاک ہوسکتی ہے جوانسان کے پیداکرنے والے کی طرف سے ہو۔جو سب انسانوں کے جذبات سے واقف ہو اورسب کے جذبات کو مناسب حد تک ابھارنے کا خیال رکھے۔