تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 274
ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس حد تک انہوں نے شگاف دیا۔پھر فرمایا کہ شگاف دے کر اس نے میرے دل کو باہر نکا لا۔پھر ایک سونے کی سینی لائی گئی جس میں ایمان اورحکمت بھرے ہوئے تھے۔پھر اس شخص نے پہلے میرادل دھویا پھر میرے اندر وہ نور بھردیاگیا۔پھر ہرچیز اپنی اپنی جگہ پر رکھ دی گئی۔پھر ایک چوپایہ لایاگیا جوگدھے سے اونچا اورخچر سے چھوٹاتھا۔اس کے قد م اس کی حد نظرتک جاکر پڑتے تھے۔مجھے اس جانور پر سوار کردیاگیا اورجبرائیل مجھے لے کر چلے۔یہاں تک کہ ہم پہلے آسمان پر پہنچ گئے۔اسی قسم کی روایت بخاری اورابن جریر میں بھی انسؓ سے بیان کی گئی ہے۔اس میں بھی کہا گیا ہے کہ اسراء کی رات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ سے سیدھے آسمان کی طرف لے جائے گئے۔(خصائص جلد اول ص ۱۵۳) اس روایت میں صرف یہ الفا ظ استعمال ہوئے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ اسراء ہم سے بیان کیا۔لیکن آگے بیت المقدس کاکوئی ذکر نہیں بلکہ سیدھا آسمان تک جانے کا ذکر ہے اورساری حدیث میں معراجِ آسمانی ہی کا ذکر ہے جس سے معلو م ہوتاہے کہ صحابہ کبھی اسراء کالفظ بولتے تھے اوران کی مراد صرف معراج ہوتی تھی اس کے برخلاف اس کابھی ثبوت ملتا ہے کہ اسراء کالفظ وہ صرف بیت المقدس کی طرف جانے کے لئے بولتے تھے۔چنانچہ حدیثِ جابرؓمیں جوبخاری اورمسلم میں مروی ہے اسراء کالفظ صرف بیت المقدس تک جانے کے لئے استعمال ہواہے۔(خصائص جلد او ل ص ۱۵۷) اسی طرح شدا د بن اوس کی روایت میں جوطبرانی۔بیہقی اور کئی کتب حدیث نے بیان کی ہے یہ لفظ صرف بیت المقدس تک جانے اوروہاں سے مکہ واپس آنے کے متعلق بولاگیا ہے۔(خصائص جلد او ل ص ۱۵۸و۱۵۹) ان دونوں قسم کی روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ میں اسراء کالفظ دونوں واقعات کی نسبت مستعمل تھا۔پس اس لفظ کے استعمال اوربعض تفصیلات کے اشتراک کی وجہ سے بعض راویوں کو یہ دھوکا آسانی سے لگ سکتا تھا کہ یہ دونوں واقعات ایک ہی ہیں اوراس کی وجہ سے انہوں نے دونوں قسم کی روایا ت کوملاکربیان کردیا اوراس سے بعد میں آنے والے لوگوں کو یہ دھوکالگ گیا کہ شاید یہ ایک ہی واقعہ کی تفاصیل ہیں۔روایات میں خلط علاوہ ازیں روایات پر تنقیدی نگاہ ڈالنے سے بھی یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ ان میں خلط ہوگیا ہے۔کیونکہ جن روایات میں پہلے بیت المقدس جانے اوروہاںسے آسمان پر جانے کا ذکر ہے انہی میں یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ بیت المقدس میں آپ کو دوسرے انبیاء سے ملایا گیا ان میں آدم بھی تھے اور حضرت موسیٰ بھی اور حضرت عیسیٰ بھی اور حضرت ابراہیم بھی۔لیکن آسمان پرجانے کے بعد پھر بیان ہواہے کہ مختلف آسمانو ں پر آپ