تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 270

(۳)تیسری شہادت واقعات سے یہ ہے کہ وہ راوی جنہوں نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے ان میں سے بعض تو وہ ہیں کہ جنہوںنے سیدھاآسمان پر جانے کا ذکر کیا ہے۔بیت المقدس تک جانے کا ذکرنہیں کیا۔اوربعض وہ ہیں۔کہ جنہوں نے بیت المقدس تک جاکر پھر آسمان پر جانے کا ذکرکیا ہے۔بعض ایسے ہیں کہ جنہوں نے بیت المقدس تک جانے کا ذکر کیا ہے آگے آسمان تک جانے کاکوئی ذکر نہیں کیا۔لیکن ایک خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوںنے صاف کہا ہے کہ آپ بیت المقدس سے فارغ ہو کر مکہ واپس تشریف لے آئے۔یہ ظاہر ہے کہ جنہوں نے سیدھا آسمان پر جانے کا ذکرکیا ہے ان کی شہادت بھی یہی ہے کہ معراج کاواقعہ ایک الگ واقعہ ہے۔کیونکہ اگر آپ گھر سے سیدھے آسمان کی طرف لے جائے گئے تھے توبیت المقد س راستہ میں پڑہی نہیں سکتا۔یہ راوی انس۔مالک بن صعصہ اورابوذر ہیں۔ابوذران صحابہ میں سے ہیں جوابتدائی ایام میں اسلام لائے تھے اوراس واقعہ کے شرو ع کے سننے والوں میں سے تھے۔شب اسراء میں آنحضرت ؐ صرف بیت المقدس تک گئے اسی طرح جنہوں نے بیت المقدس تک ہی جانے کا ذکر کیا ہے آگے آسمان پر جانے کا ذکر نہیں کیا۔ان کی شہادت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ بیت المقدس کی طرف جب اسراء ہواہے اس وقت آنحضرت صلعم آسمان پر تشریف نہیں لے گئے ورنہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اسراء کاواقعہ تووہ لوگ بیان کرتے لیکن اس کے اہم ترین جزو کو یعنے آسمان پر جانے اور اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے اور اس کا دیدار کرنےکے حصہ کو چھوڑ دیتے۔اس قسم کی روایت کر نے والے انس ؓ اورعبداللہ بن مسعودؓ ہیں اور عبداللہ بن مسعودؓ بھی ان صحابہ میں سے ہیں جو شروع میں اسلام لائے اورہروقت آپ کے ساتھ رہے۔وہ روایات جن سے ثابت ہے کہ آپ ؐ صرف بیت المقدس گئے تیسری قسم کی روایتیں جن سے صاف معلو م ہوتا ہے کہ آپ صرف بیت المقدس تک گئے اورپھر واپس تشریف لے آئے۔وہ توظاہرہی ہے کہ اس امر کی بیّن دلیل ہیں کہ بیت المقدس کے اسراء کے ساتھ آسمان کامعراج نہیں ہوا۔بلکہ ا س با رآپ صرف بیت المقدس تک لے جائے گئے تھے۔ان احادیث کے راوی عبداللہ بن مسعودؓ۔ابن عباس ؓ۔شداد بن اوسؓ۔امّ ہانیؓ۔حضرت عائشہؓ اور حضرت امّ سلمہؓ ہیں۔ان میں سے عبداللہ بن مسعود کا ذکر میں نے اوپر کردیا ہے۔عبداللہ بن عباسؓ۔حضرت عباس کے لڑکے ہیں جوآنحضرت صلعم کے چچا تھے۔اوربوجہ اس کے کہ یہ واقعہ گھر میں پیش آیا تھا ان کو اس کے صحیح حالات جاننے کاسب سے بہتر موقعہ تھا۔حضرت عائشہ ؓ اورامّ سلمہ ؓ آنحضرت صلعم کی ازواج مطہرات میں سے ہیں اوراس واقعہ کی بہترین شاہد ہوسکتی ہیں۔پھرامّ ہانیؓ ہیں جن کے گھرمیں یہ واقعہ