تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 269
سے ثابت ہے۔واقعاتی شواہد کہ معراج اور اسراء الگ الگ واقعات ہیں تاریخی شہادت کے درج کرنے کے بعد اب میں واقعاتی شواہدسےثابت کرتا ہوں کہ یہ دونو واقعات الگ الگ ہیں۔(۱)پہلی گواہی ا س بارہ میں خود قرآن کریم کی ہے۔قرآن کریم میں سورئہ نجم میں معراج کے واقعہ کو بیان کیاگیا ہے اوراس میں کوئی ذکر بیت المقدس کی طر ف جانے کانہیں۔اس کے مقابل پر سورئہ اسرائیل میں بیت المقدس تک جانے کا ذکر ہے۔اورآسمان پر جانے کاکوئی اشارہ تک نہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ دونو واقعات الگ الگ ہیں۔اس لئے ان کے اکٹھابیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ورنہ یہ نہایت قابل تعجب امر ہے کہ ایک ہی واقعہ کا آخری حصہ توچھ سال پہلے قرآن کریم میں بیان کیاگیا۔اوراس کا پہلاحصہ چھ سال بعد بیان کیا گیا۔شب اسراء آنحضرت ؐ امّ ہانی کے گھر تھے (۲)دوسراگواہ واقعات میں سے ان دونوں امورکے الگ الگ ہونے کا یہ ہے کہ اس واقعہ کاموقعہ کاگواہ صرف ایک ہے اوروہ امّ ہانی ہیں۔آپ اس رات جب یہ واقعہ پیش آیا ہے امّ ہانی کے ہاں ہی سوئے تھے۔وہ فرماتی ہیں کہ سب سے پہلے مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء الی بیت المقدس کا واقعہ سنایاتھا اورصبح کے وقت دوسرے لوگوں سے ذکرکرنے سے پہلے سنایاتھا۔اورمیں نے اس خیا ل سے کہ لوگ اس واقعہ کے عجیب ہونے کے سبب ا س کاانکار کریں گے اورمخالفت میں ترقی کرجائیں گے آپ کو لوگوں کے سامنے اس کے بیان کرنے سے باز رکھنے کی بھی کوشش کی تھی مگر آپ نے میری یہ بات نہ مانی (خصائص الکبریٰ جلد ۱ )۔یہ گواہ جو موقعہ کاگواہ ہے اورجس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے یہ واقعہ بیان کیا ہے اس سے کم سے کم سات محدثین نے اپنی اپنی کتب میں اس واقعہ کے متعلق روایت کی ہے۔اورچار مختلف راویوں کے ذریعہ روایت نقل کی ہے۔مگران چاروں روایتوں میں صرف اتنابیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بیت المقدس تک جاکر راتوں رات واپس آگیاہوں۔اگرآپ آسمان پر جانے کا ذکر بھی اس وقت فرماتے تو ام ہانی جو سب سے پہلی گواہ ہیں۔وہ کسی نہ کسی موقعہ پر توبیت المقدس سے آسمان پر جانے کا ذکر کرتیں۔مگر وہ جب ذکرکرتی ہیں اورجس کے پاس ذکر کرتی ہیں یہی کہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بیت المقدس تک جاکر واپس آیا ہوں۔اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ بیت المقدس تک جانے کاواقعہ اَورہے اور معراج الی السماء کاواقعہ اورہے۔