تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 268
معراج کے واقعہ میں ہوئی ہے۔اب اگران دونوں واقعات کو ایک سمجھا جائے توماننا پڑے گاکہ پانچوں نمازیں گیارہویں ، بارہویں سال بعد نبوت میں فرض ہوئی ہیں جوبالبداہت غلط ہے۔پانچوں نمازوں کے فرض ہونے کا زمانہ شروع زمانہ نبوی سے ثابت ہے اورسب مسلمانوں کااس پر اتفاق ہے (بخاری کتاب الصلٰوۃ باب کیف فرضت الصلٰوۃ فی الاسراء)۔پس اس امر سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ معراج نبوی نبوت کے ابتدائی ایام میں ہواہے جبکہ اسراء کاواقعہ گیارہویں بارہویں سال میں ہواہے۔بلکہ میں تویہ کہوں گا کہ قرآن کریم میں جودومعراجو ں کا ثبوت ملتاہے۔اس کا ذکر اس امر کے بتانے کے لئے کیاگیا ہے کہ سورئہ نجم میں جس معراج کا ذکر ہے وہ دوسرامعراج ہے۔ورنہ ایک معراج نبوت کے ملتے وقت یا اس کے ساتھ ہی ہواتھا اورنمازیں اس میں فرض ہوگئی تھیں۔چنانچہ بخاری نے انس ؓ سے روایت کیا ہے اورابن جریر نے بھی اپنی تفسیر میں اس روایت کو بیان کیا ہے کہ جَاءَہٗ ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ قَبْلَ اَنْ یُوْحٰی اِلَیْہِِ۔الخ۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین فرشتے آئے۔(بخاری کتاب التوحید باب قولہ وکلم اللہ موسیٰ تکلیمًا) اوریہ واقعہ نبوت سے پہلے کا ہے۔آگے وہی معراج کاواقعہ مذکور ہے۔اوراس میں بیت المقدس کی طرف جانے کا ذکر نہیں بلکہ سیدھا آسمان پرجانے کا ذکر ہے۔اورآخر میں نمازوں کے فرض ہونے کا ذکر ہے۔اس حدیث سے معلو م ہوتا ہے کہ معراج کا واقعہ کم سے کم ایک دفعہ نبوت کے ملنے سے عین پہلے یاعین اس وقت ہواہے اوریہی بات درست ہے۔کیونکہ نمازیں فرض شروع اسلام سے ہیں اورایک سال بھی نبوت کے بعدایسا نہیں گزرا۔جس میں نمازیں فرض نہ ہوں(اکثر محققین اس طرف گئے ہیں کہ نبوت سے پہلے کانہیں۔اس وقت کاہے۔راوی کوزمانہ کے قرب کی وجہ سے غلط فہمی ہوئی ہے اور میرے نزدیک بھی یہی صحیح ہے۔کیونکہ نبوت سے پہلے نمازوں کا فرض ہوناعقل کے خلاف ہے )۔معراج اور اسراء دو الگ الگ واقعات ہیں خلاصہ یہ کہ معرا ج اوراسراء دوالگ الگ واقعات ہیں۔اور جیسا کہ سورئہ نجم کی آیات سے ظاہر ہے معرا ج دوہیں۔اوراحادیث سے معلو م ہوتا ہے کہ ایک معراج نبوت کے ابتدائی ایام میں ہواہے۔بلکہ کہہ سکتے ہیں اسی معراج میں شرعی نبوت کی بنیاد پڑی ہے۔اورنماز یں فرض کی گئی ہیں۔اوردوسرامعراج ۵ بعد نبوت میں ہواہے۔یایہ کہ وہ بھی اس سے پہلے ہوچکا تھا صرف اس کا ذکر سورئہ نجم میں کیاگیا ہے۔اوراسراء کاواقعہ بالکل جداہے۔اورگیارہویں بارہویں سال بعد نبوت ظہور میں آیا ہے جبکہ حضرت خدیجہؓ فوت ہوچکی تھیں اور آپ امّ ہانی کے مکان میں رہتے تھے جیسا کہ متواتراحادیث اور روایات تاریخیہ