تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 266
سب لوگ مسلمان ہوگئے ہیں۔یاکم سے کم یہ کہ اس کے عمائدین مسلمان ہوگئے ہیں۔کفارنے بعد میں یہ توجیہ کی کہ اس سورۃ کو پڑھتے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے معبودوں کی بھی تعریف کی تھی۔اس لئے انہوںنے سجدہ کیا تھا۔مسلمان کہتے ہیں کہ شیطا ن نے اس وقت یہ کلمات بلند آواز سے کہہ دیئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہے۔(میری تحقیق یہ ہے۔کہ کفارنے مسلمانوں کے واپس لانے کی کوشش میں ناکام ہوکر حبشہ میں یہ جھوٹی خبر پہنچادی کہ مکہ کے لوگ مسلمان ہوگئے ہیں تاکہ مسلمان خود واپس آجائیں۔جب بعض مسلمان واپس آگئے تواس خوف سے کہ مکہ کے قریب پہنچ کر جب ان کو اس خبر کاجھوٹ ہونا معلوم ہوگا وہ واپس چلے جائیں گے۔انہوں نے یہ تدبیر کی کہ آپ کی مجلس میں آکر قرآن سننے کی خواہش کی اورسجدہ کیا۔تاکہ لوگوں میں یہ خبر مشہور ہوجائے اورمسلمان واپس نہ لوٹیں۔اورجب یہ فائدہ اٹھالیا توبعد میں اپنے اَتباع کے سامنے شرمندگی سے بچنے کے لئے یہ جھوٹ بولا کہ چونکہ رسول کریم صلعم نے مشرکانہ کلمات کہہ دیئے تھے اس لئے ہم نے سجدہ کیاتھا۔بہرحال اس کی تفصیل کایہ مقام نہیں۔یہ مضمون سورہ حج اورسورئہ نجم میں انشاء اللہ بیان کیاجائے گا )بہرحال پہلی ہجرت پر ابھی تین ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ بعض مسلمان مکہ کے لوگوں کے مسلمان ہونے کی خبر سن کر حبشہ سے واپس مکہ آگئے۔اس واقعہ سے جو تما م کتب تاریخ اوراحادیث میں مذکور ہے ثابت ہے کہ سورئہ نجم شوال ۵ بعد نبوت سے یقیناً پہلے نازل ہوچکی تھی اوراس میں چونکہ معراج کاواقعہ درج ہے اس لئے معراج کا واقعہ بھی یقیناً شوال ۵ بعد نبوت سے پہلے ہوچکا تھا۔زمانہ واقعہ معراج معراج کے واقعہ کی تاریخ بتانے کے بعد اب میں اس واقعہ کو لیتاہوں جس کا ذکرسورئہ بنی اسرائیل میں ہے۔اورجس کے متعلق میںیہ نوٹ لکھ رہاہوں۔اس واقعہ کی نسبت زرقانی شرح مواہب میں لکھا ہے کہ ۱ ۱ بعد نبوت ربیع الاول یاربیع الثانی یارجب یا شعبان میں ہو اہے۔(زرقانی جلد اول زیر عنوان وقت الاسراء) مسیحی مؤرخین نے اسے بارہویں سال بعدنبوت میں تسلیم کیاہے (میورلائف آف محمدصفحہ ۱۲۱) اسراء اور معراج دو مختلف وقتوں میں ہوئے احادیث میں اس کے متعلق جو روایا ت آتی ہیں وہ بھی ا س زمانہ کی تصدیق کرتی ہیں۔چنانچہ ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ قَالَ اُسْرِیَ بِالنَّبِیِّ صَلَی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْلَۃَ سَبْعَۃِ عَشَرَ مِنْ شَھْرِ رَبِیْعِ الْاَوَّلِ قَبْلَ الْھِجْرَۃِ بسَنَۃٍ (خصائص الکبریٰ جلد اول صفحہ ۱۶۲) یعنی عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسراء کاواقعہ ہجرت سے ایک سال پہلے سترہ ربیع الاول کوپیش آیا۔اسی طرح بیہقی نے ابن شہاب سے روایت کی ہے کہ مدینہ تشریف لے جانے سے ایک