تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 257
سُوْرَۃُ بَـنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ مَکِّیَّۃٌ سورۃ بنی اسرائیل ۱؎ یہ سورۃمکی ہے وَ ھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ مِائَۃٌ وَّاثْنَتَاعَشْرَۃَ اٰیَۃً وَاِثْنَا عَشَرَرُکُوْعًا اوربسم اللہ سمیت اس کی ایک سوبارہ آیا ت ہیں اوربارہ رکوع ہیں۔وجہ تسمیہ ۱؎ اس سورۃ کانام بنی اسرائیل اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس میں وہ واقعات بیان کئے گئے ہیں جو بنی اسرائیل کو پیش آئے تھے اورمسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ تمہیں بھی یہ واقعات پیش آئیں گے کیونکہ رسول کریم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کومثیل موسیٰ قراردے کر مسلمانوں کو بنی اسرائیل قراردیا گیا تھا۔پس اس مشابہت کی وجہ سے مسلمانوں سے بھی یہود سے ملتے جلتے واقعات کاپیش آنا ضرو ری تھا۔اوراسی کی طرف اس سورۃ میں توجہ دلائی گئی ہے۔اوربنی اسرائیل کی تاریخ کے دوحصوں میں سے پہلے حصہ کو یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لےکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک کے واقعات کوبیان کرکے مسلمانوںکی اس سے مشابہت بتائی گئی ہے۔اس سورۃ کادوسرا نام ا سراء بھی ہے۔کیونکہ اسے اسراء کے ذکر سے شرو ع کیاگیا ہے۔اوراس لئے بھی کہ اسراء اس کااہم مضمون ہے۔یہ سورۃ مکی ہے یہ سورۃ بعض کے نزدیک باجماع مکی ہے (بحر محیط سورۃ بنی اسرائیل )مگر بعض نے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسے آٹھ تک آیات مدنی ہیں۔ابن عباس ؓ اورزبیرؓ سے ابن مردویہؒ نے روایت کی ہے کہ یہ سورت مکی ہے اورنہایت ابتداء میں ناز ل ہونے والی سورتوں میں سے ہے یعنی بعثت کے تیسرے چوتھے سال نازل ہوئی ہے۔بخا ری میں ابن مسعود ؓ سے روایت ہے۔’’قَالَ فِیْ بنیْٓ اِسْرَائِیْلَ وَالْکَھْفِ وَ مَرْیَمَ اِنَّھُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْاُوَلِ وَھُنَّ مِنْ تِلَادِیْ‘‘۔(بخار ی کتاب تفسیر القرآن باب قولہ و منکم من یرد الی ارذل العمر ) یعنی عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں۔بنی اسرائیل اورکہف اورمریم شر وع میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے بھی پہلے حصہ کی ہیںاوریہ میرے پرانے مال میں سے ہیں یعنی جن سورتوں کو میں نے شروع میں یاد کیا ہے ان میں یہ سورتیں بھی ہیں۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساری کی ساری سور ۃ یا اس کاکچھ حصہ ابتدامیں نازل ہواتھا۔مگر یہ واضح نہیں کہ ابتدا سے ان کی کیا مراد تھی۔یعنی عبداللہ بن مسعودؓ کے ذہن میں ابتدائی سالوں کی کیاتعیین تھی۔میرے نزدیک یہ سورۃ بالکل ابتدائی سالوں کی نہیں ہے بلکہ چوتھے سال سے شروع ہوکر اس کانزول دسویں