تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 254
آیت میں صبر کے معنے ذاتی تکلیف پر صبر کے کرنا بالکل بے جوڑ بات ہے۔ان الفاظ سے ثابت ہوتاہے کہ اس آیت میں صبرسے مراد دشمن کی تباہی پرغم نہ کرناہے۔لَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ کا مطلب وَ لَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ۔ان الفاظ کے یہ معنی نہیں کہ ان کی شرارتوں پر غصے نہ ہو۔بلکہ اس جگہ یہ الفاظ اسی کیفیت کوظاہرکرتے ہیں جوبعض دفعہ ماں کے دل میں اس وقت پیداہوتی ہے جب اس کی اولادشرارت کرکے کسی عذاب میں مبتلاہوتی ہے جس سے وہ ان کو بچانہیں سکتی۔اس وقت وہ ان کو خوب کوستی ہے۔یہ کوسنا غصہ کا نہیں ،غم اوررنج کاہوتاہے۔اوراس کامطلب صرف یہ ہوتاہے کہ نہ تم ایسے کام کرتے اورنہ تم کو یہ دکھ پہنچتا۔اورنہ تمہارے ساتھ میں دکھ پاتی۔محمدؐ رسول اللہ کے ایسے ہی جذبات کی اس جگہ ترجمانی کی گئی ہے۔اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَؒ۰۰۱۲۹ اوریاد رکھ کہ اللہ(تعالیٰ)یقیناً ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہوں نے تقویٰ( کاطریق)اختیار کیا ہو۔اورجونیکو کار ہوں تفسیر۔متقی انسان وہ ہوتاہے جو خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرلے۔اوراتنا بڑھا لے کہ خدا تعالیٰ خو د اس کی سپر بن جائے۔اوراس کامحافظ ہوجائے اورمحسن وہ ہے جو خود حفاظت میں آجا نے کے بعد دنیا کوبھی خدا کی حفاظت میں لانے کی کوشش کرے۔پس محسن کادرجہ متقی سے اعلیٰ ہے۔بعض لوگ خود بہت نیک ہوتے ہیں مگر دوسروں کو بچانے کی فکر نہیں کرتے۔اوربعض دوسروں کی فکر توکرتے ہیں۔مگر اپنی ذاتی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتے۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی کامل معیت حاصل کرنے کے لئے دونوں باتیں ضروری ہیں یعنی متقی ہو اورمحسن بھی۔متقی کی تعریف اس جگہ یہ بات یادرکھنی چاہیے۔کہ متقی کے یہ معنے نہیں جسے دنیا کی ہوش ہی نہ ہو۔قرآن میں ایسے شخص کانام جاہل آیاہے۔متقی تو وہ ہوتاہے جس کے ہرکام میں خشیت خدانظرآرہی ہو۔جوکوئی کام ہی نہیں کرتا۔اس میں خشیت کہاںسے پیداہوگی۔متقی کاتولفظ ہی بتاتا ہے کہ وہ خطرات میں پڑتا ہے۔مگرخدااس کی حفاظت کرتا ہے۔پس متقی وہ ہے ،جودنیا کے کاموں میں پڑے مگر اس کے بداثر سے محفوظ رہے۔محسن کے تین معنی محسن کے متعلق بھی یادرکھنا چاہیے کہ اس کے معنے مسر ف کے نہیں ہوتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں۔کہ تواگر اپنے وارثوں کے لئے مال چھو ڑجائے تویہ اس سے بہتر ہے کہ