تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 228
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَ اس نے تم پر صرف مردار کو خون کو اورسؤر کے گوشت کو اور(ہر)اس چیز کو حرام کیا ہے جس پر اللہ (تعالیٰ) کے سواکسی مَاۤ اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ اورکانام لیا گیاہو اورجوشخص(ان میں سے کسی چیز کے کھانے پر )مجبورکیاجائے بحالیکہ وہ نہ باغی ہو اورنہ حد سے فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۱۱۶ بڑھنے والاہو تو(یاد رہے کہ )اللہ(تعالیٰ)یقیناًبہت ہی بخشنے والا (اور)بارباررحم کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اُھِلَّ۔اُھِلَّ اَھَلَّسے مجہول کا صیغہ ہے اوراَھَلَّ الْقَوْمُ الْھِلَالَ کے معنے ہیں رفَعُوْا اَصْوَاتَھُمْ عِنْدَ رُؤْیَتِہٖ۔لوگوں نے چاند کو دیکھ کر اپنی آوازوں کو بلند کیا۔اَھَلَّ الصَّبِیُّ:رَفَعَ صَوْتَہُ بِالْبُکَاءِ۔بچے نے روتے ہوئے آواز بلند کی۔اَھَلَّ فُلَانٌ بِذِکرِاللہ : رَفَعَ صَوْتَہٗ بِہٖ عِنْدَ نِعْمَۃٍ اَوْ رُؤْ یَۃِ شَیْءٍ یُعْجِبُہٗ کسی نعمت کے ملنے پر یاکسی خوش کن چیز کے دیکھنے پر اللہ تعالیٰ کانام اونچی آواز سے لیا۔اَھَلَّ بِالتَّسْمِیَّۃِ عَلَی الذَّبِیْحَۃِ اَیْ قَالَ بِسْمِ اللہِ۔جانور کے ذبح کرتے وقت اللہ کانام لیا۔مَآ اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِاللہِ اَیْ نُوْدِیَ عَلَیْہِ بِغَیْرِ اسْمِ اللہِ عِنْدَ ذَبْحِہٖ۔جانورکو ذبح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سواکسی اورکا نام لیا۔(اقرب) فَمَن اضْطُرَّ۔یہ اِضْطَرَّ سے مجہول کا صیغہ ہے اِضْطَرَّہٗ اِلَیْہِ کے معنے ہیں اَحْوَجَہٗ وَاَلْجَاَہٗ فَاضْطُرَّ۔اس کواس کا محتاج بنا کر اس کی طرف جانے کے لئے لاچار کیا اوروہ اس کی طرف لاچار اورمجبورہوکر گیا۔(اقرب) تفسیر۔پہلی آیت میں فرمایا تھاکہ اے مسلمانوںتم کو اللہ تعالیٰ رزق کی فراخی دینے لگاہے اس وقت کے آنے سے پہلے ہی یہ سبق سیکھ لو کہ حلال اشیاء کااستعمال جو طیب بھی ہوںتم کوجائز ہوگا۔یاد رہے کہ مال کی حلت ذریعہ کسب کے صحیح ہونے پر مبنی ہوتی ہے۔مگرخوردنی اشیاء کے لئے اس کے علاو ہ ایک اورشرط بھی ہے اوروہ یہ کہ وہ اس قسم میں شامل نہ ہوں جسے حرام کیاگیاہے۔پس اس سوال کو کہ کونسی اشیاء حلال ہیں اورکونسی حرام اس آیت میں حل کیاگیا ہے۔الفاظ قرآنیہ بتاتے ہیں کہ اشیاء کی حلّت و حرمت میں اصل حلت ہے اورحرمت ایک قید کے طورپر ہے۔بعض