تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 19

دونوں اعتراض غلط ہیں اورمتضاد بھی۔کیونکہ ایک اعتراض سے تواپنا بڑاہونا اورنبیوں کا حقیر ہونا ظاہر کیا جاتاہے۔اور دوسرے اعتراض میں اپنے حقیر ہونے کااقرار ہوتاہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی بہانہ سے الہام کے جوئے سے بچنا چاہتے ہیں۔آیت مِنْهَا تَاْكُلُوْنَمیںمِنْهَا کو پہلے رکھنے کی وجہ یہ جو فرمایا مِنْھَا تَاْکُلُوْنَ اس میں مِنْهَا کو پہلے رکھا گیا ہے جوتخصیص کے معنے دیتاہے۔اس پر یہ اعتراض پڑسکتا ہے کہ کیاانسان اَنعام کے سوادوسری چیزوں کے گوشت نہیں کھاتے یاسبزیاں نہیں کھاتے۔اس کا جواب یہ ہے کہ تخصیص کبھی حصر کے مضمون کے اظہار کے لئے آتی ہے اور کبھی یہ بتانے کے لئے کہ اس قسم کی چیزوں میں سے یہ اہم ہے اوراس جگہ پر اس کے یہی معنے ہیں۔اورمراد یہ ہے کہ تمہاری بڑی غذ ا انعام کا گوشت یا دودھ گھی ہے۔بے شک مرغی شکار وغیرہ بھی انسان کھاتے ہیں۔لیکن اہم غذا انعام کاگوشت یادودھ گھی ہے۔یاجو بمنزلہ انعام کے ہیں۔جیسے نیل گائے یا ہر ن وغیرہ۔یہ چیزیں انسانی غذاکا اہم جزو ہیں۔اوردوسری اشیاء ان سے اُترکرہیں۔اس آیت میں انعام کے دواستعمال توکھول کر بیان فرما دیئے اول گرمی سردی کے اثرات سے بچاتے ہیں۔یعنی ان کی کھالیں اوراُون وغیرہ کو تم استعمال کرتے ہو۔دوسرے یہ کہ تم ان کاگوشت کھاتے اوردودھ پیتے ہو۔تیسرالفظ منافع کا استعمال کیا گیا ہے۔اس سے مراد جانوروں کی تجارت بھی ہوسکتی ہے اورنسل کشی بھی۔وَ لَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ حِيْنَ تُرِيْحُوْنَ اور(اس کے علاوہ )تمہار ے لئے ان میں ایک(قسم کا )زینت(کاسامان بھی)ہے جب تم (انہیں )چراکرشام کو وَ حِيْنَ تَسْرَحُوْنَ۪۰۰۷ (ان کے تھانوں کی طرف)واپس لاتے ہواورجب تم (انہیں صبح کو )چرنے کے لئے چھوڑتے ہو۔حلّ لُغَات۔اَلْـجَمَالُ۔اَلْـجَمَالُ اَلْـحُسْنُ فِی الْـخَلْقِ وَ الخُلُقِ۔جمال ظاہری و باطنی خوبی کوکہتے ہیں (اقرب) اس جگہ جمال سے مرادجمال معنوی ہے یعنی عزت۔کیونکہ جس شخص کاگلّہ صبح و شام آتاجاتا ہے وہ لوگوں میں معزز ہوتاہے۔