تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 219

توجہ دلائی جاتی ہے اوردلائل سے بتایاجاتا ہے کہ اس قسم کے روحانی حشر ہمیشہ دنیا میں ہوتے آئے ہیں توکفار اس بات سے فائدہ اٹھا کر کہ آئندہ کی پیشگوئیاںگذشتہ انبیاء کے واقعات کے پردہ میں بیان کی گئی ہیں جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ ہم توپہلے ہی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کسی دوسرے شخص کاسکھایاہواہے۔وہ دوسری کتب کی باتیں ان کو سکھادیتا ہے۔اب پھر ترقیا ت کے ذکر کی طر ف بات کو پھرایاگیا ہے اورادھر توجہ دلائی ہے کہ ترقیات کے ساتھ امن ہی حاصل نہیں ہوتا بلکہ بعض قسم کے فتنے بھی پیداہوجاتے ہیں۔مخالفوں میں بھی مخالفت کازیادہ جوش پیدا ہوجاتا ہے۔اس لئے اس زمانہ میں اپنے ایمانوں کا خاص طور پر خیال رکھنا۔اوربتایا ہے کہ جو شخص کسی دنیوی غرض کی وجہ سے مرتد ہوگاوہ بڑے عذاب میں مبتلاکیاجائے گا۔آیتمَنْ شَرَحَمیں عبد اللہ بن ابی سرح کے ارتداد کی پیشگوئی میرے نزدیک اس آیت میں عبد اللہ بن ابی سرح کے ارتداد کی پیشگوئی ہے۔اورپہلی آیات سے اس آیت کا جو ربط میں پہلے بیان کرچکاہوں۔اس کے علاوہ اسے یہ بھی ربط حاصل ہے کہ جبر کی وجہ سے جواعتراض ہواتھا اس میں بھی قرآن کریم کے انسانی کلام ثابت کرنے کی کوشش کا ذکر تھا۔اوریہ مرتد جس کایہاں ذکر ہے اس نے بھی ارتدا د اسی دلیل پر کیاتھا کہ قرآن خدائی کلام نہیں۔انسانوں کابنایا ہواکلا م ہے۔یہ پیشگوئی ایک زبردست پیشگوئی ہے۔اور چونکہ مکہ میں کی گئی اوران حالات میں کی گئی کہ عبداللہ کوابھی کاتب وحی مقررنہ کیاگیاتھا۔پھر اس میں اشارۃً وجہ ارتداد بھی بتائی گئی کہ اسے قرآن کریم کے الہامی ہونے کے بارہ میں شبہ ہوگا۔اس لئے اس کی عظمت اوربھی بڑھ جاتی ہے۔یہ جو آگے فرمایا ہے کہ جو مجبوراً ارتداد کرے اس پر اتنا عذاب نہیں۔شاید یہ اشارہ جبر ہی کی طرف ہو۔اورممکن ہے کہ ظلم کی وجہ سے وہ دلیر ی سے اسلام کااظہار نہ کرسکے ہوں۔گوبعض روایات میں عمار کے متعلق اس کو چسپاں کیا جاتا ہے مگر مضمون کی ترتیب کودیکھتے ہوئے جبر پر یہ واقعہ زیادہ چسپاں ہوتاہے (تفسیر کبیر لامام رازی زیر آیت ھذا)۔مسیحیوں نے اس آیت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ا س سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام بزدلی کی تعلیم دیتاہے اورظلم کے موقعہ پر ارتداد کی اجازت دیتا ہے (تفسیر القرآن از پادری ویری )۔لیکن یہ اعتراض بھی ان کے دوسرے اعتراضوں کی طرح غلط ہے۔کیونکہ اس جگہ سے یہ ہرگز نہیں نکلتا کہ اللہ تعالیٰ اس فعل کو معا ف کردے گا۔اس جگہ تو صرف یہ کہا ہے کہ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىِٕنٌّ والے کے متعلق اس آیت میں حکم نہیں بیان کیا گیا۔اورسزا سے مستثنیٰ نہیں بتایاگیا۔بلکہ اس گروہ کو علیحدہ قراردے کر یہ کہا ہے کہ ا س کا ذکر بعد میں کیاجائے گا۔