تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 216
(۳)آپ نے بائبل کے واقعات کے متعلق بعض نئی باتیں بیان کی ہیں جن کااس وقت کسی یہودی اورعیسائی فرقہ کو بھی علم نہ تھا لیکن وہ آج سچی ثابت ہورہی ہیں۔جیسے فرعون کی لاش کا محفوظ رہنا اورآخر مل جانا۔(۴)روایات سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلعم چوتھے یا پانچویں سال بعد دعویٰ کے اس غلام کے پا س کھڑے ہواکرتے تھے کیونکہ روایات میں آتا ہے کہ جب آنحضرت صلعم کابائیکاٹ ہواہے اس وقت اس کے پاس کھڑے ہواکرتے تھے لیکن قرآن کریم کی بعض سورتیں اس واقعہ سے پہلے اتر چکی تھیں اوران میں عیسائیوں کا ذکر موجود تھا جیسے سورۃ طٰہٰ سورۃ فرقان۔کہف۔مریم وغیرہ۔چنانچہ حضرت ابن مسعودؓ جو بالکل ابتدائی زمانہ میں اسلام لانے والے ہیںفرماتے ہیں کہ سورۃ بنی اسرائیل۔کہف۔سورۃ طٰہٰ۔سورۃ مریم۔سورۃ انبیاء اِنَّ ھُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْاَوَّلِ وَھُنَّ مِنْ تِلَادِیْ(بخاری کتاب التفسیر سورۃالانبیاء)یہ قرآن کریم کی ابتدائی سورتوں میں سے ہیں اور میرا پرانا مال ہیں یعنی میں نے ابتداءاسلام میں یہ سورتیں یاد کی تھیں۔ان سورتوں میں کثرت سے یہودیوں اورعیسائیوں کے واقعا ت آتے ہیں۔اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا يَهْدِيْهِمُ اللّٰهُ جولوگ اللہ(تعالیٰ)کے نشانوں پر ایما ن نہیں لاتے انہیں اللہ (تعالیٰ)ہدایت نہیں دیتا اوران کے لئے دردناک وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۱۰۵ عذاب (مقدر)ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْعَذَابُ اَلْعَذَابُکے معنوں کے لئے دیکھو حجر آیت نمبر ۵۱۔اَلْعَذَابُ:کُلُّ مَاشَقَّ عَلَی الْاِنْسَانِ وَمَنَعَہٗ عَنْ مُرادِہِ۔عذاب کے معنی ہیں جو انسان پر شاق گذرے اورحصول مراد سے اسے روک دے وَفِی الْکُلِّیَّاتِ کُلُّ عَذَابٍ فِی الْقُرْآنِ فَھُوَ التَّعْذِیْبُ اِلَّا وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا طَائِفَۃٌ فَاِنَّ الْمُرَادَ الضَّرْبُ۔اورکلیات میں لکھا ہے کہ عذاب سے مراد قرآن مجید میں عذاب دیناہوتاہے سوائے آیت وَلْیَشْھَدْ عَذَابَھُمَا کے۔وہاں سزامراد ہے۔(اقرب) اَلْاَلِیْمُ اَلْاَلِیْمُ اَلمُوْجِعُ دکھ دینے والا۔(اقرب)