تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 209
نہیں یااتنی نہیں آتی کہ وہ اپنا مطلب بیان کرسکے۔لیکن اس کے یہ معنے بھی توہوسکتے ہیں کہ اس کی مادری زبان غیر عربی ہے۔اورایسا شخص جسکی مادری زبان غیر عربی ہو بعد میں عربی سیکھ بھی توسکتاہے پس جواب مکمل نہ ہوا۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معنے اس آیت کے نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ سوال قرآن کریم نے دوسری جگہ خود بیان کیا ہے۔اوراس کاالگ جواب دیا ہے۔جس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ معنے آیت زیر بحث میں نہیں ہیں۔نیزاس سے یہ امر بھی ثابت ہوتاہے کہ پادری ویری کایہ استنباط کہ سورۃ نحل کا جواب بالکل بوداہے اوراس سے اعتراض کی سچائی ثابت ہوتی ہے۔ان کی ناواقفیت کی وجہ سے ہے کیونکہ جب قرآن کریم نے وہی سوال جو وھیریؔصاحب اور دوسرے مسیحی مصنفوں نے اس آیت سے نکالا ہے سور ۃ فرقان میں خود بیان کیا ہے اوراس کا جواب نہایت زبردست دیا ہے۔تویہ کس طر ح ممکن تھا کہ سور ۃ نحل میں اس سوال کانہایت بوداجواب دیاجاتا۔سورۃ فرقان خود وھیر ی صاحب کے نزدیک ابتدائی مکی سورتوں میں سے ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ :۔’’اس سورۃ کی آیتیں محمد(صلعم)کی ابتدائی مکی وحی میںسے ہیں۔‘‘(تفسیر قرآن از پادری ویری تعارف سورہ فرقان) اورسورۃ نحل کی نسبت وہ لکھتے ہیں کہ :۔’’تما م شہادت اندرونی ہویابیرونی ہمیں اس امر کے ماننے پرمجبورکرتی ہے کہ یہ (نحل)آخری مکی سورتوں میں سے ہے۔‘‘(تفسیرالقرآن از پادری ویری تعارف سورۃ نحل) اب کیا کو ئی عقلمند تسلیم کرسکتا ہے کہ جس اعتراض کو سورۃ فرقا ن میں نہایت زبردست دلائل کے ساتھ ردکیا ہے اس کے چھ سال کےبعد اس سوال کا جواب سورۃ نحل میں نہایت بودااورکمزوردےدیا ہے۔اگرفرقان بعد کی ہوتی توکوئی شبہ بھی کرسکتاتھا کہ اس وقت جواب نہیں سوجھا بعد میں جوا ب بنالیا۔مگر فرقان خود مسیحی مصنفوں کے نزدیک پہلے کی ہے اورنحل بعد کی۔اب میں مضمون کو یکجا بیان کرنے کے لئے پہلے وہ دلائل بیان کرتاہوں جوسورۃ فرقان میں بیان کئے گئے ہیں۔سورۃ فرقان میں آتاہے :۔وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ ا۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْا ظُلْمًا وَّ زُوْرًا۔وَ قَالُوْۤا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا۔قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِيْ يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا(الفرقان :۵ تا ۷) یعنی کفار کہتے ہیں کہ قرآن ایک جھوٹی کتا ب ہے اورمحمد ؐرسول اللہ کواس کے بنانے میں دوسرے لوگ مدد