تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 208

ہے۔جن کی اس آدمی سے جس کی طر ف یہ کلام منسوب کیاجاتا ہے توکیا امید کی جاسکتی ہے بڑے سے بڑا عقلمند انسان بھی اس کتاب کے بنانے میں مدد نہیں دے سکتا جس میں سب سچائیا ںبادلیل بیان کی گئی ہوں۔اورسب اعتراضوں کا رد موجود ہو۔ایسی کتاب تو صرف خدا تعالیٰ ہی اتارسکتا ہے۔ممکن ہے کو ئی یہ کہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ وہ غلام جاہل تھے۔ہم توسمجھتے ہیں کہ کوئی بڑاعالم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم)کے قبضہ میں آگیاتھا۔جن مسیحیوں نے اس آیت کا مشار الیہ سرگِیس کوقرار دیا ہے اسی حکمت سے قرار دیا ہے کیونکہ وہ زیادہ عقلمند تھے۔اورانہوں نے اس امر کو محسوس کرلیاتھا کہ قرآن کریم میں یہود ونصاریٰ اوراسلام کے درمیان اختلافی امورکی جو بحث ہے و ہ غلام توالگ رہا اچھے لکھے پڑھے عیسائی کی دسترس سے بھی باہر ہے۔اس لئے انہوں نے ایک فرضی سرگیس کو تجویز کیا کہ وہ ایک نُسطوری راہب تھا اورآپ کو سکھایاکرتاتھا۔تاریخی طورپر تو خود مسیحی مصنفوں نے ہی ان کی بات کو رد کردیا ہے۔عیسائیوں کے اعتراض کا عقلی ردّ مگرمیں عقلی طورپر بھی اس کا ایک جواب بیان کردیتاہوں اوروہ یہ ہے کہ اگرنصاریٰ اس الزام کو یہ شکل دیں تو پھر بھی انہی کے مذہب پر زدپڑتی ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہوں گے کہ یہود و نصاریٰ کی جوتصویر اسلام نے پیش کی ہے خواہ انسانوں سے سیکھ کر کی ہے مگر ہے وہی سچی۔اوراگر وہ تصویر سچی ہے توان کے مذاہب کے غلط ہونے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔اس پہلو کے بدلنے سے صرف ان کویہ تسلی ہوگئی کہ ہمارے مذاہب توجھوٹے ثابت ہوہی گئے ہیںہم نے قرآن پر بھی اعتراض کردیا کہ اسے بھی انسانوں نے بنایا ہے۔لیکن یاد رہے کہ شبہ یقین کاقائم مقام نہیں ہوسکتا قرآن کریم کی طرف جو بات و ہ منسوب کررہے ہیں اسے توخود ان کے اپنے آدمی ناقابل قبول قراردیتے ہیں۔لیکن یہ تسلیم کرکے کہ قرآن کریم نے یہودیوں اور مسیحیوں سے جہاں جہاں اختلا ف کیا ہے وہ کسی بڑے عالم کی تحقیق ہے۔جس نے اہل کتاب کی لائبریریاں چھان کر ان باتوں کو نکالا ہے۔اورموجود ہ مذاہب کی غلطیوں کو ظاہرکردیا ہے۔اس سے تو ان مذاہب کاکچھ بھی نہیں رہتا۔اوریہودی اور مسیحی زیادہ سے زیادہ یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے سکتے ہیں کہ یہودیت وہ نہیں جوموجودہ تورات اورکتب یہود میں موجود ہے بلکہ وہ ہے جوقرآن میں بیان ہوئی ہے۔اورنصرانیت وہ نہیں جوموجود ہ اناجیل میں ہے بلکہ وہ ہے جو قرآن میں ہے۔اوراگر وہ ایسا کہیں گے تودوسرے لفظوں میں قرآن کریم کی تصدیق کریں گے۔اب ایک پہلو آیت کے ترجمہ کارہ گیا ہے جوقابل توجہ ہے اور وہ یہ کہ کوئی کہہ سکتاہے کہ آیت کایہ ترجمہ کہ جس کی نسبت لو گ گمان کرتے ہیں اس کی زبان غیرعربی ہے۔اس کے گوایک معنے یہ بھی ہوسکیں کہ اس کو عربی یاآتی ہی