تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 207

وہ ان قصوں کو سنیں وہ ضرور بڑے دماغ کااوربڑی سمجھ کا آدمی ہو۔بلکہ واقعات چونکہ غلط بیان ہوئے ہیںاس لئے جاہل اوراکھڑ غلام کی نسبت ایسا الزا م کے واقعا ت زیادہ مطابق بیٹھتا ہے نہ کہ اعترا ض کو دور کرتا ہے۔قرآن مجید اپنے اندر جملہ کتب کی صداقتیں رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے اس کا جواب ایک تو یہ ہے کہ قرآن کریم میں کہیں وہ دعویٰ بیان نہیں جومسیحی قرآن کی طرف منسوب کرتے ہیں۔قرآن کریم اپنی سچائی کی یہ دلیل نہیں دیتا کہ چونکہ اس میں اہل کتاب کی کتب کی باتیں بیان ہوئی ہیں و ہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔بلکہ قرآن تو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس میں وہ صداقتیں موجود ہیں جواہل کتا ب کی کتب میں نہیں ہیں اس لئے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔چنانچہ اسی سورئہ نحل میں یہ آیات گذر چکی ہیں کہ تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْهِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔(النحل :۶۴،۶۵)یعنی ہمیں اپنی ہی ذات کی قسم ہے کہ تجھ سے پہلے ہرقوم میں نبی گزرچکے ہیں۔اورہرقوم کے پاس ہدایت نامہ آچکا ہے مگرباوجود اس کے شیطان نے ان قوموں کو گمراہ کردیا اوراب وہ مختلف باتیں اپنے مذہب کی طر ف منسوب کررہے ہیں جوخدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہ ہوئی تھیں اوروہ اللہ تعالیٰ کوچھوڑ کرشیطان کے تصرف میں آئے ہوئے ہیں اوردردناک عذاب کا موردبننے کے خطرہ میں ہیں۔پس ان کے ان اختلافات کے مٹانے کے لئے ہم نے تجھ پر یہ کتاب اتاری ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے وہ سچائیاں جوان سے مخفی ہوچکی ہیں اوروہ ان کے متعلق اختلاف کررہے ہیں بیا ن کرے۔اوراس قرآن کے ذریعہ سے ہم نے مومنوں کے لئے ہدایت اوررحمت کے سامان پیداکئے ہیں۔اس آیت میں پہلے سب قوموں میں نبی آنے کا ذکر ہے اوربعد میں قرآن کریم کے نزول کا۔اوریہ نہیں فرمایا کہ چونکہ یہ پہلے نبیوں کی کتب کی باتیں بیان کرتا ہے اس لئے سچا ہے۔بلکہ یہ فرمایا ہے کہ پہلی کتب کو لو گوں نے چھوڑ دیا اورشیطان کے پیچھے چل پڑے اوران میں قسم قسم کے اختلاف پیداہوگئے۔یہ قرآن ان اختلافوں کو مٹانے اورجو صداقت مخفی ہوگئی تھی اسے ظاہرکرنے کے لئے آیا ہے۔قرآن کریم کے اس دعوے کی موجودگی میں یہ کہنا کہ محمدرسول اللہ محض پچھلی کتب کی باتیں بیان کرکے جن کو وہ چند غلاموں سے سن لیتے تھے اپنی سچا ئی کادعویٰ کرتے تھے کس قدرغلط ہے۔خود یہ آیت بھی تو جیساکہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں یہی بات پیش کررہی ہے۔کہ قرآن کریم کی برتری کسی نقل کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے مبین ہونے کی وجہ سے ہے۔اورمُبِیْن ہونے کے لئے وسیع اورمخفی علوم کی ضرورت