تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 17

ہے کہ زمین وآسمان کوایک خاص نظام کے ماتحت پیداکرکے ہم نے انسان کوبنایا۔اوراپنے حق کی بناء پر اس کے لئے ہدایت نامے نازل کئے۔مگر باوجود اس کے کہ ہم نے اُسے ایک حقیر مادہ سے پیداکرکے اعلیٰ سے اعلیٰ قابلیت عطا کی۔وہ اُلٹاہمارے حقوق کے متعلق بحث کرنے لگتا ہے۔کوئی کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے عدم سے وجود کس طرح پیدا کیا اس لئے دنیا خود بخود بنی ہے۔کوئی کہتا ہے خدا نے مادہ نہیں بنایا۔بلکہ یونہی جبراً اس پر تصر ف کرلیا ہے کوئی کہتا ہے کہ خدا کو کیاحق حاصل ہے کہ میرے لئے ہدایت نامہ جاری کرے۔میں آزا دہوں۔میں اپنے لئے خود قانون بنائوں گا۔غرض اس کے احسا ن کاانکارکرنے لگتا ہے اوراپنے آپ کو آزاد بتاتا ہے۔اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ خود تو ایک حقیر ماد ہ سے پیدا ہونے کے باوجو د اپنے آپ کواتنابڑاسمجھنے لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے بھی بحث کرنے کو تیارہو جاتا ہے۔لیکن دوسری طرف نبیوں پر اعتراض کرتا ہے اورنہیں سمجھتا کہ جس خدا نے ایک حقیر نطفہ سے پیداکرکے ایک سمجھد ار انسان بنادیا جو الٹانافرمان ہوگیا۔کیا وہ ایک بظاہر حقیر نظر آنے والے انسان کو آگے ترقی دے کر انسان کامل نہیں بناسکتاکہ تاوہ اس کی فرمانبرداری کرے اور دوسروں سے کرائے۔اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ خلق زمین و آسمان سے یہ غرض تونہ ہوسکتی تھی کہ ایک نافرمان انسان پیداہو۔یقیناً خلق کا مقصد اس سے بالاہوناچاہیے تھا۔پھر جب اس مقصد کوپوراکرنے والاانسان دنیا میں آتاہے تولوگوں کوتعجب کیوں ہوتاہے۔وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِيْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا اور(نیز)چارپایوںکو (پیدا کیا ہے اور)انہیں اس نے ایسابنایا ہے کہ ان میں تمہارے لئے گرمی کاسامان تَاْكُلُوْنَ۪۰۰۶ اور(اوربھی)کئی نفعے ہیں اور تم ان (کے گوشت )کاکچھ حصہ کھاتے ہو۔حلّ لُغَات۔دِفءٌ۔دَفِیءَ( یَدْفَأُ۔دَفَأًودَفُؤَ۔یَدْفُوءُ۔دَفَاءَۃً) مِنَ الْبَرَدِ کے معنے ہیں۔تَسَخَّنَ وَوجَدَ الْـحَرَّ۔گرم ہوااور گرمی کو محسوس کیا۔اَلدِّفْءُ۔نَقِیْضُ حِدَّۃِالْبَرْدِ۔گرمی۔الدِّفْءُ مِنَ الْحَائِطِ کِنُّہٗ۔دیوار کی پنا ہ۔یُقَالُ ’’ اُقْعُدْ فِی دِفْءِ ھٰذَاالْحَائِطِ‘‘ اِیْ کِنِّہِ۔چنانچہ اُقْعُدْ فی دِفْ ءِ