تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 202

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عجمی رومی غلام مکہ میں تھا اس کانام بلعام تھا۔رسول اللہ اسے اسلام سکھایاکرتے تھے۔اس پر قریش کہنے لگے کہ یہ محمدؐ کوسکھاتاہے۔(روح المعانی زیر آیت ھذا) علاوہ ازیں علامہ سیوطیؒلکھتے ہیں کہ قیسؔ ایک عیسائی غلام تھا اس کی ملاقات رسول اللہ سے تھی۔اس پر الزام لگائے گئے تھے کہ وہ محمدؐ کوسکھاتاہے۔(قرآن العظیم از جلال الدین سیوطی زیر آیت ھذا) درمنثورمیں لکھا ہے کہ عدسؔایک غلام تھا جواوسہ بن ربیع کاغلام تھا اس کی نسبت الزام لگایا جاتاتھا۔اور روح المعانی (جلد۱۴ ) اورکشاف میں لکھا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ کفار سلمانؓ فارسی کے متعلق الزام لگایاکرتے تھے۔ڈاکٹر سیلؔ لکھتاہے کہ ڈاکٹر پریڈیاؔنے سوانح محمدؐ میں لکھا ہے کہ عبداللہ بن سلام کے متعلق لو گ اعتراض کیاکرتے تھے جس کانام یہودیوں میں عبدیاؔبن سلوم تھا۔لیکن خود سیل ؔنے ہی اس کارد کیا ہے۔وہ لکھتاہے کہ پریڈیا نے عبداللہ بن سلام کے متعلق غلطی کھائی ہے۔سلمان کا نام ا س نے غلطی سے عبداللہ ابن سلام سمجھ لیا ہے۔(یعنی دراصل جس کانام لیا جاتاتھا وہ سلمان تھے ) سیل ؔ کہتاہے کہ عام خیال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نسطوری پادری سے جس کانام سرگِیس تھا مددلی تھی۔اورخیال کیا جاتاہے کہ سرگیس بحیرہ راہب کانام تھا۔جس سے محمدؐصاحب جبکہ آپ حضرت خدیجہؓ کی طرف سے تجارت کے لئے شام کوگئے تھے ملے تھے۔اس کی سند میں مشہورمصنف المسعودی کو پیش کیا جاتا ہے جس نے لکھاہے کہ بحیرہ راہب کانام عیسائیوں کی کتاب میں سرگِیس آتاہے۔(تفسیر القرآن از پادری ویری زیر آیت ھٰذا) آنحضرت ؐ کو کسی بشر کے سکھانے کے متعلق پادریوں کی غلط آراء پادری ویری ؔمختلف روایات بیان کرکے اپنی رائے کو یوں ظاہر کرتے ہیں کہ ناموں میں خواہ کتناہی اختلاف ہو لیکن یہ بات ہم کو یقینی طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )صاحب کے پاس ایسے ذرائع موجود تھے کہ ہجرت سے پہلے یہودیوں اورعیسائیوں کی مدد حاصل کرسکتے تھے۔اوریہ بات کہ وہ اس مدد سے فائدہ حاصل کیا کرتے تھے اس کاناقابل تردید ثبوت مکی زندگی کے آخری دورکی سورتوں میں جن میں یہودیوں اور مسیحیوں کی کتب کی کہانیاں بیان ہیںمہیا ہے۔پھر یہی صاحب آیت زیربحث کاحوالہ دےکر لکھتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد صاحبؐ کے ہمسائے غیر مذاہب کے لوگوں سے مدد حاصل کرنے کا الزام ان پر لگایا کرتے تھے اوراس اعتراض کاجوجواب قرآن نے دیا وہ محمد صاحبؐ کی پوزیشن کی کمزوری کوثابت کررہا ہے۔چنانچہ آرنلڈ صاحب بھی اس بارہ میں لکھتے ہیں کہ اس بات کوتسلیم کرتے ہوئے کہ وہ غیرملکی تھے۔ہم کہتے ہیں کہ وہ انہیں مسالاتومہیاکرکے دے سکتے تھے۔