تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 196
نے مخالفت کی ہے۔بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن کی طرف کلام نازل ہواہے وہ پہلے لوگوں سے مختلف ہیں اورایک ہی شخص مختلف لوگوں کو ان کے حالات کے مطابق مختلف حکم دیتاہے اوردے سکتا ہے اوریہ اختلاف اس امر کی دلیل کبھی اور کسی صورت میں نہیں قرار دیاجاتاکہ چونکہ مختلف حکم ہیں حکم دینے والے بھی مختلف ہیں۔اختلاف ہمیشہ حکم دینے والوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہی نہیں پیدا ہوتابلکہ بعض دفعہ اختلاف ان لوگوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جنہیں حکم دیاگیاہو۔جب مخاطب مختلف قابلیتوں کے ہوں تو ایک ہی حکم دینے والا مختلف لوگوںکو ان کے حسب حال مختلف حکم دیتاہے۔اصل سوال تویہ ہوناچاہیے کہ قرآن کی تعلیم زمانہ کے حسب حال ہے یانہیں۔اگروہ زمانہ کے حسب حال ہے تواس اختلاف سے علم الٰہی کاثبوت ملانہ اس کاکہ محمد رسول اللہ پر کلام نازل کرنے والا کوئی اَورہے اورپہلے نبیوں پر کلام نازل کرنے والاکوئی اَور۔یہ معنے اگلی آیات سے بھی بالکل مطابق آتے ہیں اس لئے یہی اس موقعہ کے لحاظ سے زیادہ صحیح ہیں۔ہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس صورت میں اٰیَۃً کے معنے پہلی کتا ب کے لئے جائیں گے یعنی جب ایک کتاب کی جگہ دوسر ی کتاب کو بدلاجاتاہے اورکتاب بھی آیت ہوتی ہے۔بلکہ سب سے بڑا معجزہ انبیاء کا کتاب ہی ہوتاہے۔قرآن کریم کے دیگر کتب کے مصد ق ہونے سے مراد تعجب ہے کہ یہ اعتراض آج تک قرآن کریم پر ہورہا ہے۔چنانچہ مسیحی مصنف آج تک یہی اعتراض کرتے چلے جارہے ہیں کہ جب قرآن کریم کتب سابقہ کا مصدق ہونے کادعویٰ کرتاہے توان سے اختلاف کیوں کرتاہے۔یہ ا س با ت کا ثبوت ہے کہ قرآن نعوذ باللہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کابنایاہواہے اورانہوں نے پہلی کتب سے ناواقفیت کی وجہ سے ایسی باتیں لکھ دی ہیں جوپہلی کتب کے خلاف ہیں۔(تفسیر القرآن از ویری سورہ بقرہ آیت ۹۰ )۔بعض مفسرین نے اس آیت کے معنے کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ اس میں سورۃ النجم کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی تلاوت کے وقت شیطان نے بعض آیتیں بلند آواز سے آپ کی تلاوت کے درمیا ن میں پڑھ دی تھیں اول تویہ واقعہ ہی سرے سے باطل ہے جیسا کہ انشا ء اللہ اس کے موقعہ پر بتایاجائے گا۔لیکن اگربفرض محال اسے تسلیم بھی کرلیا جائے توبھی اس آیت سے اس کاکوئی تعلق نہیں۔کیونکہ اس آیت میں تویہ ذکر ہے کہ جو آیت بدلی گئی وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی اورجس نے بدلاوہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔اورجس واقعہ کو وہ اس آیت پر چسپاں کرتے ہیں ا س میں خود وہ تسلیم کرتے ہیں کہ جو آیات بدل گئیں وہ شیطان کی تھیں پس ان کی اپنی تشریح ہی ثابت کرتی ہے کہ اس فرضی واقعہ کااس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔