تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 195

ہوتاہے۔چنانچہ عربی زبان میں وعد ہ کے بدلنے کو جھوٹ کہتے ہیں۔وعید یعنی عذاب کی خبر کو بدلنے کو جھوٹ نہیں کہتے بلکہ اسے رحم اوراحسان کہتے ہیں۔اقرب میں لکھا ہے اَلْخَلْفُ فِی الْوَعْدِ عِنْدَ الْعَرَبِ کِذْبٌ وَفِی الْوَعِیْدِ کَرَمٌ (اقرب)۔یعنی وعدہ کابدلنا عربوں کے نزدیک جھوٹ کہلاتاہے اوروعید یعنی سزاکی خبر کابدلنا شرافت اوراحسان کہلاتا ہے۔غرض ایک معنے تواس آیت کے یہ ہیں کہ ہم وعید کی خبروں کوبعض دفعہ بدل دیاکرتے ہیں۔کفاراس پر اعتراض کرتے ہیں۔لیکن ان کااعتراض صحیح نہیں۔ایساکرناحکمت کے عین مطابق ہے اس میں کسی کاحق نہیں ماراجاتا کہ قابل اعتراض ہو۔ان معنوں کے روسے اس آیت کا تعلق ان انذاری آیات سے ہوگاجوپہلے بیان ہوچکی ہیں۔اس آیت کے ایک اور معنی ایک اورمعنے بھی اس آیت کے ہیں اورو ہ ترتیب قرآن کو مدنظررکھتے ہوئے ا س مقام پر زیادہ چسپاں ہوتے ہیں اوروہ یہ کہ جیساکہ میں بتاچکاہوں اس سورۃ میں کلام الٰہی کی ضرورت کے دلائل بیان کئے جارہے ہیں اوراس کے ثبوت میں پہلے انبیاء کو بھی پیش کیاگیاہے۔مثلاً اسی سور ۃ کے آٹھویں رکوع میں فرماتا ہے کہ تَاللّٰہِ لَقَدْاَرْسَلْنَآ اِلیٰٓ اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ(النحل:۶۴)ہمیں اپنی ذات ہی کی قسم کہ جوتجھ سے پہلے قومیں گذر چکی ہیں ان میں بھی ہم رسول بھیج چکے ہیں۔پھر رکوع ۱۲ میں فرماتا ہے وَیَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَھِیْدًا عَلَیْھِمْ مِنْ اَنْفُسِھِمْ (النحل:۹۰)یعنی اس دن کویاد کرو جبکہ ہم ہرقوم کے خلاف اسی قوم کا نبی گواہ بناکر کھڑا کریں گے۔نسخ آیات کے ایک لطیف معنی اس میں ا س طرف اشارہ تھاکہ سب قوموں میں نبی مبعوث ہوچکے ہیں۔توچونکہ گذشتہ انبیاء کے وجود کو کلام الٰہی کی ضرورت کے ثبوت میں پیش کیاگیاتھا جب کفارہرطرف سے عاجز آگئے توانہوں نے یہ دلیل اسلام کے خلاف پیش کی کہ اگرپہلے بھی نبی گذر چکے ہیں توچاہیے تھاکہ ان کی تعلیم اوراسلام کی تعلیم ایک ہی ہوتی مگر اس میں توان کی تعلیمو ں کے خلاف تعلیم بھی پائی جاتی ہے پس معلوم ہواکہ محمد(رسول اللہ) جواپنے تسلیم کردہ نبیوں کے خلاف باتیں کہتے ہیں جھوٹے ہیں ورنہ یہ کس طرح ہوسکتاتھا کہ خدا تعالیٰ ان نبیوں کو کچھ کہے اوراس کو کچھ اَورکہے۔سواس اعتراض کوبیان کرکے اس کا جواب دیا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ اسے کس زمانہ میں کیا نازل کرنا چاہیے۔یعنی پہلے انبیاء کی تعلیم سے جہاںجہاں قرآن کریم نے اختلاف کیا ہے۔اس کی یہ وجہ نہیں کہ اس سچی تعلیم کی قرآن