تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 190
کرلیا کرو۔تاکہ دنیوی فتوحات کی پیشگوئیاںتمہاری توجہ کو اپنی طرف پھراکرتم کو دین کے اعلیٰ مقاصد سے غافل نہ کردیں۔اوردنیا دین پر مقدم نہ ہوجائے۔اللہ اللہ !کیاپاک کلام ہے اوراس میں کس طرح مومنوں کے ایما ن کی حفاظت کے ساما ن پیداکئے گئے ہیں۔اوراس کے باوجود دشمن کہتا ہے کہ لالچ دے دےکر قرآن کریم نے لوگوںکو اسلام کی طرف راغب کیا تھا۔(ستیارتھ پرکاش اردو ترجمہ باب ۱۴ صفحہ ۷۰۱)۔اِنَّهٗ لَيْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ (سچی )بات یقیناًیہی ہے کہ جولوگ ایمان لائے ہیں اوراپنے رب (کی پناہ)پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ان پر اس يَتَوَكَّلُوْنَ۰۰۱۰۰ کاکوئی تسلط نہیں ہے۔تفسیر۔انجیلی تعلیم کے مقابل قرآن مجید کی دنیوی کاموں میں حصہ لینے کی تعلیم بعض لوگوں کاخیال ہے کہ دنیا میں پڑ کر انسان خدا تعالیٰ سے محبت کرہی نہیں سکتا۔چنانچہ حضرت مسیح کی طرف انجیل میں یہ قول منسوب کیا گیا ہے۔(۱)’’اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانااس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو ‘‘۔(متی با ب۱۹آیت ۲۴) نیز (۲)’’دولت مندوں کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا کیسامشکل ہے کیونکہ اونٹ کاسوئی کے ناکے سے نکل جانااس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو۔‘‘(لوقا باب ۱۸آیت ۲۴و۲۵) اس خیال کے لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض ہوسکتاتھاکہ دنیا کے متعلق خبریں پڑھنے سے بعض لوگوں کے ایما ن میں کمزوری پیدا ہونے کااحتمال ہوسکتاتھاتومسلمانوں کو دنیوی فتوحا ت اورحکومت کی خبر دی ہی کیوں گئی ؟ اس کا جواب یہ دیا کہ شیطان کاقبضہ کمزوروں پرہوتا ہے۔مومن دنیا میں پڑ کر بھی دین کی طرف سے غافل نہیں ہوتا۔پس اس جگہ ہم صرف کمزوروںکو ہوشیارکرتے ہیں۔یہ ہم تسلیم نہیں کرتے کہ مضبوط ایمان والے بھی دنیا میں پڑ کر نجات سے محروم ہوجاتے ہیں۔گویااسلام کی تعلیم اس بارہ میں یہ ہے کہ دست درکارودل بایار۔اوریہی مقام اعلیٰ