تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 188
فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ اس لئے (اے مخاطب)جب توقرآن پڑھنے لگے تودھتکارے ہوئے شیطان (کے شر)سے (محفوظ رہنے کے الرَّجِيْمِ۰۰۹۹ لئے )اللہ(تعالیٰ)کی پناہ مانگ (لیا کر )۔حلّ لُغَات۔اِسْتَعِذْ۔اِسْتَعِذْ اِسْتَعَاذَ سے امر مخاطب کاصیغہ ہے۔اوراِسْتَعَاذَ۔عَاذَ سے باب استفعال ہے اورعَاذَ بِہٖ فی کَذَا(یَعُوْذُ عَوْذًا۔وَعِیَاذًا)کے معنے ہیں۔لَجَأَ اِلَیْہِ وَاعْتَصَمَ۔اس کی پناہ لی۔تَقُوْلُ اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم اَیْ اَلْتَجِیُٔ اِلَی اللہِ وَاَعْتَصِمُ مِنَ الشَّیْطَان۔اوراَعُوْذُ بِاللہِ منَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم کے معنے ہیں کہ میں اللہ کی پناہ لیتاہوں اورشیطا ن سے بچتاہوں۔اِستَعَاذَ بِہٖ مِنْہُ۔اِعْتَصَمَ وَلَجَأَ اِلَیْہِ مِنْہُ۔اس نے اس کے ذریعہ پنا ہ لی۔(اقرب) پس اِسْتَعِذْ کے معنے ہوں گے کہ شیطان سے بچنے کے لئے اللہ کی پناہ چاہو۔تفسیر۔اِذَاقَرَاْتَ کے یہ معنے نہیں کہ جب تو قرآن ختم کیا کرے تومعوّذتین پڑھ لیا کر۔کیونکہ وہ سورتیں توقرآن میں شامل ہیں۔بہرحال پڑھی ہی جائیں گی ان کو چھوڑ تو نہ دیاجائےگا۔پس اس جگہ جیساکہ سنت نبویؐ سے ثابت ہے شروع تلاوت میں اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھنے کاحکم ہے۔پہلے فرمایاتھا کہ ثابت قدم لوگوں کو یہ یہ عظیم الشان انعامات ملنے والے ہیں۔اب اس نعمت کی حفاظت کے لئے ایک گر بتاتاہے اوروہ یہ ہے کہ تم شیطان کے حملو ں سے بچنے کے لئے خدا تعالیٰ کی پنا ہ میں آجا ئو۔تاتم ان انعامات کے وارث ہوسکو اوررستہ سے بھٹک نہ جائو۔بعض نادانوں نے غلط آراء اورروایات پر بنیادرکھ کر اس آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے او ر اس کی شان نزول یہ ہے۔کہ سورۃ النجم کی تلاوت کرتے ہوئے ایک دفعہ آپ کی زبان پر بعض شرکیہ کلمات شیطان نے جاری کردئے تھے۔نعوذ باللہ من ذالک۔جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیاکہ آئندہ جب قرآن پڑھاکروتوپہلے اعوذ ضرور پڑھ لیا کرو تاشیطان پھر تمہاری زبان پر کو ئی کلمہ ء شرک جاری نہ کردے۔(تفسیر القرآن از ویری زیر آیت ھذا)