تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 15

بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو اعلان کرناتھا ہوچکا۔جواس کامفہوم سمجھتے تھے ان کومعلوم ہوگیا۔نااہلوں تک پہنچانے کی ضرورت نہیں۔اس حکم کے اہل جو سمجھتے ہیں کہ لاالہ الااللہ میں سب احکام شامل ہیں وہ خود اس کی مناسب تشریح کےساتھ سب کو پہنچا دیں گے۔اتَّقٰی کے معنے اِتَّقُوْنِ وَقٰی یَقِیْ سے باب افتعال کاصیغہ ہے اوراس کے معنے ہیں۔اپنی حفاظت کاذریعہ کسی کو بنانا۔پس اِتَّقُوْنِ کے معنے ہیں۔کہ مجھے ہی اپنی حفاظت اوربچائو کاذریعہ بنائو۔یہ مطلب نہیں کہ مجھ سے اس طرح ڈروجس طرح نقصان رساں چیزوں سے ڈرتے ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ توخود اپنے بندوں کو اپنی طرف بلاتا ہے اوران سے محبت کرتاہے۔خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى اس نے آسمانوںاورزمین کو حق(و حکمت)کے ساتھ پیدا کیاہے اورجن چیزوں کو (یہ لوگ اس کا )شریک عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۰۰۴ ٹھہراتے ہیں وہ اس سے بہت بالاہے۔حلّ لُغَات۔اَلْـحَقُّ کے لئے دیکھو رعد آیت نمبر۱۵۔اَلْحَقُّ حَقٌّ کا مصدر ہے۔اور حَقَّہٗ حَقًّا کے معنے ہیں غَلَبَہٗ عَلَی الْحَقِّ۔حق کی وجہ سے اس پر غالب آیا۔وَالْاَمْرَ: اَثْبَتَہٗ وَاَوْجَبَہٗ۔کسی امر کو ثابت کیا اور واجب کیا۔کَانَ عَلٰی یَقِیْنٍ مِنْہُ۔کسی معاملہ پر یقین سے قائم تھا۔اَلْخَبَرَ: وَقَفَ عَلٰی حَقِیْقَتِہِ اور حَقَّ الْخَبَرَ کے معنے ہوں گے اس کی حقیقت سے آگاہ ہوا اور اَلْحَقُّ کے معنے ہیں ضدُّ الْبَاطِلِ سچ۔اَ لْاَمْرُ الْمَقْضِیُّ فیصلہ شدہ بات۔اَلْعَدْلُ۔عدل۔اَلمِلْکُ۔ملکیت۔الْمَوْجُوْدُ الثَّابِتُ۔موجودو قائم۔اَ لْیَقِیْنُ بَعْدَ الشَّکِّ۔یقین۔اَلْمَوْتُ۔موت اَلْـحَزْمُ دانائی۔(اقرب) تفسیر۔حق کے دو معنی بِالحقِّ (۱)ہراک کاحق مقررکردیا ہے یعنی کچھ کام کاحصہ آسمان کے سپرد کردیااور کچھ زمین کے سپرد کردیا۔دونوں مل کرنتائج پیداکرتے ہیں۔(۲)یعنی دونوں کو حکمت کے ماتحت اس لئے پیدا کیا تا انسان کی توجہ خدا کی طرف پھر ے۔اورانسان سمجھے کہ سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی فی ذاتہٖ کامل نہیں۔آسمان اپنے کام کی تکمیل میں زمین کا محتاج ہے اورزمین آسمان کی