تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 14

كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ(الفرقان:۳۳)یعنی کافر کہتے ہیں کہ کیوں سب قرآن اس پر ایک ہی دفعہ نہیں اترا۔یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدا کاکلام نہیں۔بلکہ محمدؐ رسو ل اللہ حسب موقعہ اسے تصنیف کرلیتے ہیں۔قرآن کریم کو آہستہ آہستہ اتارنے کی حکمت فرماتا ہے یہ ٹھیک ہے کہ یہ قرآن ایک ہی دفعہ نہیں اُترا۔مگراس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس طرح تیرے دل کو ثبات اورایمان بخشناچاہتے ہیں۔یعنی تواورتیرے مؤمن اس کے مطالب کو عملی جامہ پہنا کر اس کے معانی سے خوب آگاہ ہوتے جائو اوراس لئے بھی کہ اگر پہلے ایک پیشگوئی بیان کی جائے۔پھر جب وہ پوری ہوجائے اوراس کا ذکر بعد کی وحی میں کیاجائے توایمان بہت زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔اوریہ طریق بیان بعد میں آنے والے لوگوں کے ایمان کی زیادتی کابھی موجب ہوتاہے۔لیکن اگر کلام الٰہی میں پیشگوئیوں کاتوذکرہو۔لیکن ان کے پوراہونے کی طرف کوئی اشارہ نہ ہو۔تواس وقت کے لوگ بھی اتنافائدہ نہیں اٹھاتے۔اوربعد کے لوگوں کے لئے بھی وہ کلام کافی نہیں ہوتا۔بلکہ دوسری کتب کے وہ محتا ج رہتے ہیں۔مِنْ اَمْرِهٖ میں مِن تبعیضیہ کے لحاظ سے معنی مِنْ اَمْرِهٖ میں مِنْ تبعیضیہ بھی ہو سکتا ہے اورمطلب یہ ہے کہ ہم نے سارے حکم ایک ہی وقت میں کسی ایک نبی پر نازل نہیں کئے۔بلکہ ہرزمانہ میں ضرورت کے مطابق اپنے احکام مختلف انبیاء کی معرفت نازل کئے ہیں۔پس یہ اعتراض کہ پہلے نبیوں کے بعد اس کی کیا ضرورت ہے غلط ہے۔جس طرح پہلے نبی کے بعد دوسرے نبی کی ضرورت تھی۔اسی طرح سابق نبیوں کے بعد اس نبی کی ضرورت ہے۔لا الٰہ الَّا اللہ دینی تعلیمات کا خلاصہ ہے اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ۔یہ تمام دینی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔نبیوں کی تعلیم جزئیات میں مختلف رہی ہے۔مگرایک ہی اصل سب کی تعلیم میں کارفرماتھا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اوردین کاخلاصہ یہی تعلیم ہے۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہؓ سے فرمایاکہ جاجو ملے اُس سے کہہ دے مَنْ قَالَ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔جس نے لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ کہاداخل جنت ہوگیا۔(مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علی انہ من مات علی التوحید دخل الجنة)انہیں سب سے پہلے حضرت عمرؓ ملے اورانہوں نے انہیں روکا اورآنحضرت صلعم کی خدمت میں لائے۔اورآپ سے پوچھا کہ کیا ابوہریرہ جو کہتے ہیںوہ درست ہے ؟ آپؐ نے فرمایا۔ہاں درست ہے۔آپ نے فرمایا۔یارسول اللہ اگر اس طرح اعلان ہوا تو فَاِنِّیْ اَخْشٰی اَنْ یَّتَّکِلَ النَّاسُ عَلَیْہَا یعنی لو گ یہ کہنے لگ جائیں گے کہ بس لاالہ الااللہ کہہ لیا اب کسی عمل کی ضرورت نہیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا رہنے دو۔اس سے یہ مطلب نہیں کہ آپؐ نے اس کوضروری نہ سمجھا۔