تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 182
میں دیکھو یورپ آج کیا کررہا ہے۔معاہدات کرکے کمزورقوموں کو تباہ کیا جاتا ہے۔جیسے چین میں ہوا۔مصر میں ہوا۔ترکی میں ہوااورایران میں ہوا۔اورایک زمانہ میں ہندوستان میں بھی ہوچکا ہے۔اورآج کل پھر پولینڈ۔فرانس۔فن لینڈ۔ناروے۔رومانیہ۔چیکوسلواکیہ وغیرہ ممالک سے ایسے ہی واقعات پیش آرہے ہیں۔معاہد ہ کے متعلق مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مسلمانوںکو حکم دیا ہے کہ :۔(۱)کوئی معاہد ہ اس نیت سے نہ کیا جائے جس کامقصد کسی دوسری طاقت کودھوکا دے کرکمزورکرنا ہو۔(۲)کسی کمزورقوم سے کو ئی ایسا معاہدہ نہ کیاجائے جس کامقصد یہ ہو کہ اس قوم کو اس معاہدہ کے پیچ میں لاکر اپنے ماتحت کرلیا جائے۔(۳)کوئی معاہد ہ اس نیت سے نہ کیاجائے جس کامقصد کسی دوسری طاقت کو ترقی سے روکنا ہو۔قیام امن کے لئے کیا ہی لطیف تعلیم دی ہے۔اگر اس کی پابندی کی جائے توتما م فسادات یکدم مٹ سکتے ہیں۔اتحادیوں اور ائتلافیوںکی سابق عالمگیراورموجودہ لڑائی ایسے ہی معاہدات کے نتیجہ میں پیداہوئی اورہورہی ہے۔معاہدہ وارسائی نہ ہوتا تویہ نئی جنگ بھی نہ ہوتی قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایسے معاہدات جائز ہی نہیں۔معاہد ہ نیک نیتی پر مبنی ہوناچاہیے اوراس کاواحد مقصد قیام امن ہوناچاہیے۔اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ میں اللہ تعالیٰ نے بتایاہے کہ اے مسلمانو!یہ مواقع بطورامتحان آتے ہیں اللہ تعالیٰ دیکھے گاکہ تم طاقت پا کر اسلام کی اخلاقی تعلیم پر کس طرح کاربند رہتے ہو اوردنیا کی ترقیات تمہیں کہیں دوسری اقوام کے نقش قدم پر تونہیں چلادیتیں۔کس مپرسی کی حالت میں اسلام کی یہ اعلیٰ تعلیم اس کی صداقت کی دلیل ہے یہ مضمون قرآن مجید کی سچائی کاکتنا بڑاثبوت ہے اوراسلام کی برتری کی کیسی عظیم الشان دلیل ہے۔ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ ہی میں تشریف رکھتے ہیں اورمسلمان ایک چپہ بھر زمین کے بھی مالک نہیں۔مگر اس شان اورعظمت کے ساتھ ایک زبردست حکومت کے احکا م بیان ہورہے ہیں۔اورپھر ایسے رنگ میں کہ ہرعقلمند اورشریف انسان انہیں سن کر اس تعلیم کی برتری کو تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔کیایہ سچ نہیں کہ آ ج بھی جبکہ تیرہ سوسال گذر چکے ہیں اس کلام کی سچائی ظاہرہورہی ہے۔آج کل کے فسادات اورقوموں کی بے چینیا ں صرف ان احکام کو نظر انداز کردینے کی وجہ سے ہی پیداہورہی ہیں۔