تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 179

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ اور تم اس ڈر سے کہ کوئی قوم ایسی(نہ)ہوجائے جو (کسی)دوسری قوم سے زیادہ طاقتورہو اپنی قسموں کو آپس میں تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِيَ دھوکا کرنے کا ذریعہ بناتے ہوئے اس عورت کی طرح مت بنو جس نے اپنا(محنت سے کاتاہوا)سوت (اس کے) اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ مضبوط ہوچکنے کے بعد توڑ کر پارہ پارہ کردیاتھا اس (ذریعہ )سے اللہ (تعالیٰ عنقریب)تمہاراامتحان لے يَوْمَ الْقِيٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ۰۰۹۳ گااورجس با ت کے متعلق تم آپس میں اختلاف کرتے رہے ہوگے اس (کی حقیقت )کووہ قیامت کے دن ضرور تمہارے سامنے کھول(کر رکھ )دے گا۔حلّ لُغَات۔نَقَضَتْ نَقَضَتْ نَقَضَ سے مؤنث کاصیغہ ہے۔اورنَقَضَ الْبِنَاءَ کے معنے ہیں۔ھَدَمَہٗ۔عمارت کو گرادیا۔نَقَضَ الْعَظْمَ:کَسَرَہُ۔ہڈی کو توڑ دیا۔نَقَضَ الْحَبْلَ:حَلَّہُ۔رسہ کے بل کو کھول دیا۔(اقرب) غَزْلَھَا: غَزَلَتِ الْمَرْأَۃُ الْقُطْنَ وَالصُّوْفَ: مدَّتْہُ وَفَتَلَتْہُ خِیْطَانًا۔عورت نے سُوت کاتا۔اَلْغَزْلُ مصدر ہے۔اورغزل سُوت کوبھی کہتے ہیں۔(اقرب) انکاث اَنْکَاثٌ نِکْثٌ کی جمع ہے۔اَلنِّکْثُکے معنے ہیں مَانُقِضَ مِنَ الْاَکْسِیَۃِ وَالْاَخْبِیَۃِ لِیُغْزَلَ ثَانِیَۃً کچے تاگے۔اس کی جمع اَنْکَاثٌ آتی ہے۔(اقرب) دَخَلًا الدَّخَلُ کے معنے ہیں مَادَاخِلُکَ مِنْ فَسَادٍ فِی الْعَقْلِ اَوْ فِی الْجِسْمِ۔جسم اورعقل میںخرابی۔اَلْـخَدِیْعَۃُ وَالْمَکْرُ۔دھوکااورفریب اورآیتلَا تَتَّخِذُوْۤا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَيْنَكُمْ میں انہی معنوں میں آیاہے اوروہاں پر مفعول لہٗ ہے۔(اقرب) اَرْبٰی اَرْبٰی رَبَی سے اسم تفضیل ہے اوررَبَا(یَرْبُو)الْمَالَ کے معنے ہیں زَادَوَنَمَا۔مال زیادہ ہوگیااوربڑھ