تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 171
نیکی کے حصول اور بدی سے بچنے کا طبعی طریقہ اس کے علاوہ ان مختصر سے الفاظ میں یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ بدی سے بچنے اورنیکی کے اختیارکرنے کاراستہ کون سا ہے۔چنانچہ نیکیا ں گناتے ہو ئے نیکی کے نچلے درجے کو پہلے بیان فرمایا ہے پھر اس کے اوپرکے درجہ کو پھر اُس کے اوپر کے درجہ کو۔اسی طرح بدیوں کے ذکر کو سب سے پہلے نچلے درجہ کی بدی سے شروع کیاہے پھر ا س سے اوپر کی بدی بیان کی ہے اورپھر اس سے اوپر کی اوراسی طرح انسان کو نیکیوں کے حصول اوربدیوں سے بچنے کاطبعی طریقہ بھی بتادیا ہے۔اوروہ یہ کہ جو انسان نیکی کے حصول کے لئے کوشش کرنی چاہے اسے پہلے عدل کا مقام اپنے اندرپیداکرناچاہیے پھر احسان کا پھر ایتاء ذی القربیٰ کا۔اسی طرح جو بدیوں سے بچنا چاہے اسے پہلے بغی سے بچناچاہیے پھر منکر سے بچنے کے قابل ہوسکے گااورپھر منکر سے بچنے کی جدوجہد کرنی چاہیے پھر کہیں جا کروہ فحشاء سے بچنے کے قابل ہوگا۔اس کے برخلاف اس ترتیب سے اس امر کی طرف بھی رہنمائی کی گئی ہے کہ نیکیوں میں تنزّل کی سیڑھی کون سی ہے۔جوانسان ایتاء ذی القربیٰ کے مقام پر ہے اسے اس پر مضبوطی سے قائم ہونا چاہیے ورنہ گر کر احسان کے مقا م پر آجائے گا۔اوراحسان پر جو کھڑا ہے اسے اپنے مقام کا خیال رکھنا چاہیے ورنہ عدل کے مقام پر آگرے گا۔اسی طرح اس پر خوش نہ ہونا چاہیے کہ مجھ میں صرف فحشاء پائی جاتی ہیں کیونکہ جو فحشاء کامرتکب ہوتاہے منکر کاارتکاب اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے اورپھر بغی کا۔نیکی کرنے کے لئے سب سے پہلے چھوٹی بدی کو پھر بڑی کو چھوڑنا چاہیے غرض ا س بیان میں ترتیب کو مدنظر رکھ کر انسانی ذہن کو اس طرف منتقل کیا ہے کہ نیکی کرنے میں سب سے چھوٹی نیکی پہلے حاصل ہوتی ہے اوربدی کو ترک کرتے ہوئے سب سے بڑی بدی کو پہلے چھوڑاجاتاہے۔اس جدوجہد کی مثال سیڑھی کی ہے جو انسان نیکی کی عمارت پر چڑھنا چاہے وہ سب سے پہلے نچلے زینہ پر قدم رکھے گا اورپھر ایک ترتیب سے ترقی کرتا ہوا اوپر تک چڑھ جائے گا۔اورجو شخص بدیوں کے مکان پر چڑ ھ چکا ہے اورنیچے اترناچاہتا ہے اسے سب سے پہلا قدم اوپر کے زینہ پر رکھناہو گا۔اورپھر و ہ تدریجاً نیچے آتاجائے گا۔اسلامی تعلیم پر ہر درجہ کا آدمی عمل کرسکتاہے میں نے اوپر ذکر کیاتھا کہ تیسری خوبی جس کامکمل تعلیم میں پایاجاناضروری ہے یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا سب انسانوں کے لئے ممکن ہو۔یہ خوبی بھی مذکورہ بالا تعلیم میں پائی جاتی ہے۔جہاں یہ تعلیم نہایت اعلیٰ درجہ کی ہے وہاں اس پر عمل بھی ہردرجہ اورطبقہ کے آدمیوں کے لئے ممکن ہے۔وہ نہ توادنیٰ اخلاق کی تعلیم دے کر خاموش ہوجاتی ہے کہ اعلیٰ ترقیا ت کے خواہش مند اس سے تسلی نہ پا سکیں اورنہ اعلیٰ اخلاق کے بیان پر بس کردیتی ہے کہ کمزورانسا ن نیکی سے محروم رہ جائیں۔بلکہ وہ نیکی اوربدی کے تمام مدارج کو