تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 13

عابد بندے ہیں نہ کہ ہرانسان۔اوراس طرف اشار ہ ہے کہ گونبوت وہبی ہے۔مگر اس کانزول عباداللہ پرہی ہوتاہے۔گویا یہ وہب ایک کسب کے ساتھ وابستہ ہے۔اوریہ وہب مشروط ہے عبد ہونے کے ساتھ۔اِن موہبتوں میں سے نہیں جو بلا قید ہرایک کومل سکتی ہیں۔مِنْ عِبَادِهٖۤ ہنے سے تین باتوں کی طرف اشارہ مِنْ عِبَادِہٖ سے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ وحی نبوت صرف موحد بندوں پر نازل ہوتی رہی ہے جو توحید کی دلیل ہے۔اگر شرک بھی جائز ہوتا۔توکیوں نہ کوئی نبی ایسا بھی پایاجاتاجو خالص اللہ تعالیٰ کاعبد نہ ہوتا۔بلکہ دوسرے معبودوں کی عبادت بھی کرلیاکرتا۔توحید کایہ ایک بہت بڑا ثبوت ہے کہ آج تک ایک بھی نبی نہیں ہواجومشرک ہو۔پھر نہ معلوم مشرک اپنے عقیدہ کی بنیاد کس دلیل پر رکھتے ہیں۔عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ نبی کا انتخاب اللہ تعالیٰ بندوں کی مرضی کے مطابق نہیں کرتا۔بلکہ اپنی مرضی کے مطابق کرتاہے۔اس لئے بندوں کا اس سے مختلف الخیال ہوناضروری ہے۔اورجب نبی خدا کا منتخب کیا ہواہوتا ہے۔توکفار کا یہ اعتراض کہ اس کے خیال قومی خیالات سے مختلف کیوںہیں کم عقلی کی علامت ہے۔کلام الٰہی ہمیشہ آہستہ آہستہ اترتا ہے يُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ۔تنزیل کے ایک معنے آہستہ آہستہ اُتارنے کے ہوتے ہیں۔اس جگہ یہی معنے مراد ہیں اوربتایا ہے کہ کلام الٰہی ہمیشہ اورہرنبی پر آہستہ آہستہ اترتاہے۔مسیحیوں کے اعتراض کا ردّ پس یہ اعتراض جو رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض لوگوں کی طرف سے خصوصاً مسیحیوں کی طرف سے کیاجاتا ہے کہ اس کاتھوڑاتھوڑاکرکے اُترنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ انسانی کلام ہے اورضرورت کے مطابق تصنیف کرلیا جاتاتھا۔ان کی سنّت الٰہیہ سے ناواقفیت کی علامت ہے۔کیونکہ کون سا نبی ہے جس نے ایک وقت میں ہی ساری کتاب لاکر دنیاکودے دی ہے۔موسیٰ کے صحف۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعات سب اس ا مر پر شاہد ہیںکہ تعلیم آہستہ آہستہ ایک لمبے عرصہ میں دنیا کودی گئی۔اگراس طرح تعلیم کادنیا کے سامنے پیش کرنا قابل اعتراض ہے تو یہ اعتراض حضر ت موسیٰ ؑاور حضرت عیسیٰ ؑ پر بھی وارد ہوتاہے۔لیکن حق یہ ہے کہ یہ اعتراض ہی غلط ہے۔جوتعلیم دنیا کے رائج الوقت خیال کے خلا ف ہو اوراس کو مٹاکر اوامر الٰہی کو رائج کرنے کے لئے آئے۔اس کاآہستہ آہستہ اترنا ضروری ہے۔تالوگ اس پر اچھی طرح عمل کرسکیں اورتاوہ ان کے دماغوں میں راسخ ہوجائے۔اسی کی طرف اشارہ ہے سورۃ فرقان کی اس آیت میں کہ وَ قَالَ الَّذِيْنَ