تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 164
بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِيْنَ۠ؒ۰۰۹۰ کرنےوالوں کو بشارت دینے کے لئے اُتاری ہے۔حلّ لُغَات۔تِبْیَانًا تِبْیَانًا یہ بَانَ کامصدر ہے۔اوربَانَ الشَّیْءُ(یَبِیْنُ تِبْیَانًا)کے معنے ہیں۔اِتَّضَحَ۔کوئی چیز واضح ہوگئی اوربَانَ کافعل لازم ہے لیکن کبھی کبھی متعدی بھی استعمال ہوتاہے۔(اقرب) تفسیر۔قیامت کے دن آنحضرت ؐ کی شہادت سے مراد آپ کا نمونہ پیش کر نا ہے اس آیت میں پہلی آیت کے مضمون کو مکمل کیا گیا ہے۔فرماتا ہے جب سب نبی اپنے اپنے نمونہ کو پیش کریں گے ا س وقت توبھی ان لوگوں پر بطور گواہ پیش ہوگااورہم تجھے دکھا کر ان سے پو چھیں گے کہ یہ بھی توتم میں سے ایک تھایہ کیوں شرک وغیر ہ بدعقائد میں نہ پھنسا۔اورکیوں اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بندہ بن کر دوسروں کی ہدایت کاموجب ہو ا۔کیا اسی وجہ سے نہیں کہ اس پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہواتھا اور تم اس سے محرو م تھے بلکہ اس کلام کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے تھے۔اس کے بعد اس وحی کی برکات کی طرف اشار ہ فرمانے کے لئے فرماتا ہے۔ا ے محمدؐ ہم نے تجھ پر و ہ کتاب اتاری ہے جس میں ہرروحانی ضرورت کی تشریح ہے اوراس میں رحمت اورہدایت کے سامان ہیں۔یعنی تجھ میں اورتیری قوم کے لوگوں میں جو فرق ہے وہ اسی کلام کی وجہ سے ہے۔قرآن کریم میں ہر چیز کے اصول موجود ہیں یہاں کُلِّ شَیْءٍ سے دنیا کی ہرچیز مراد نہیں بلکہ وہ چیزیں مراد ہیں جو اسی کتاب سے مناسبت رکھتی ہیں۔کوئی استاد اگراپنے شاگرد کو کہے کہ ساری کتب اٹھالائو تواس کایہ مطلب نہیں ہوتاکہ وہ لائبریری کی سب کتب اُٹھالائے۔بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوگاکہ اپنی کتب اٹھالائو ایسا ہی یہاںپرکل سے مراد وہ چیزیں ہیں جوروحانیت کی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔اگر کوئی کہے کہ بعض مسائل کی تفصیل صرف احادیث میں ملتی ہے۔تواس کا جواب یہ ہے کہ اصول سب قرآن کریم میں بیان ہیں جوتفاصیل احادیث میں ہیں وہ قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے قرآن کافہم سب سے زیاد ہ دیاتھا۔وہ قرآن کریم سے جو مطالب اخذ کرتے تھے ہم نہیں کرسکتے۔پس اگر آپ نے قرآنی مطالب کی بعض تفاصیل بیان کی ہیں تواس کے یہ معنی نہیں کہ قرآن کریم نامکمل ہے بلکہ اس کے صر ف یہ معنے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کامل فہم سے ان مسائل کاقرآن سے استنباط کیا۔گوہماراذہن اس باریکی کو نہیں پاسکا۔